*امام* *النحو، حضرت* *علامہ مفتی محمد بلال احمد نوری پورنوی: حیات* *وخدمات
*امام* *النحو، حضرت* *علامہ مفتی محمد بلال احمد نوری پورنوی: حیات* *وخدمات*
*از* *:* *محمد* *مشتاق* *جیلانی* *منظری*
*خادم: جماعت رضائے* *مصطفے* *شاخ* *سب* *ڈویژن* *بائسی*
صوبہ بہار چھٹی صدی ہجری ہی سے علماے ربانیین اور اولیاے کاملین کا مسکن رہا ہے۔ اگر یہاں کے مایہ ناز علماے دین اور اولیاے کاملین کی تاریخ حیات کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے صفحات پہ ایک سے ایک نادر الوجود اور مقدس ہستیوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ اور اس کا ہر باب اتنا روشن و تابناک ہے کہ آنے والی نسلیں اسے اپنا منزل مقصود قرار دے سکتی ہیں اور ہر قدم پر اس سے ہدایت و رہنمائی بھی حاصل کرسکتی ہیں۔
ہرعہد میں ان علماے دین اور اولیاے کاملین نے دین و دانش کے ہر شعبہ میں اپنی بصیرت و جامعیت اور مہارت وعبقریت کے نقوش ثبت کیے ہیں اور اپنی لازوال خدمات کی قابل رشک تاریخ رقم کر کے جمہور امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کر، سواد اعظم کی قیادت و ہدایت کا گراں قدر فریضہ انجام دیا ہے۔
الحمدللہ، بہار کو یہ فخر و شرف حاصل ہے کہ اس میں مخدوم الملک حضور شرف الدین احمد یحییٰ منیری، امام الاولیا حضور محمد رکن الدین صاحب فاروقی بارگاہِ عشق، مجدد اعظم حضور محب اللہ بہاری، قطب الاقطاب حضور سید شاہ مجیب اللہ پھلواروی، امام المحدثین حضور سید شاہباز محمد بھاگلپوری، قطب زماں، شیخ طریقت حضور تیغ علی شاہ مظفر پوری،سرکارپٹنہ حضور سید شاہ فدا حسین صاحب علیہ الرحمہ،طوطئ ہند، حافظ حدیث حضرت محمد قادر بخش سہسرامی قدس سرہ السامی، جمال الاولیا حضور مصطفی جمال الحق بندگی، قطب الاقطاب حضور مخدوم خواجہ سید شاہ عظمت اللہ چشتی باز بیریا،عاشق صادق حضور سید شاہد حسین صاحب علائ،عارف بااللہ حضور شاہ حفیظ الدین لطیفی، ملک العلما حضرت سید شاہ ظفر الدین صاحب بہاری، بحرالعلوم حضرت علامہ سید افضل حسین صاحب مونگیری،زعیم العلما حضرت علامہ غلام یسین صاحب رشیدی،قطب پورنیہ، حضرت علامہ محمد یوسف صاحب رشیدی، جلالتہ العلم ابو الوفاء حضرت علامہ عبدالقادر صاحب رشیدی، شیخ کامل حضرت شاہ شرف الدین صاحب حفیظی،گانگی،امام علم و فن حضرت علامہ خواجہ محمد مظفر حسین صاحب رضوی (رحمہم اللہ) جیسے باکمال علماے دین اور اولیاے کاملین کا وجود مسعود ہوا۔
ضلع پورنیہ, بہار کے ان شہرۂ آفاق اضلاع میں سے ہے جس کے چپہ چپہ سے علوم ومعارف کی کرنیں پھوٹتی تھیں اور اس خاک کے ذرے آسمان علم پر کہکشاں بن کر ضوفشانی کرتے تھے۔ اس معدن علم و فضل سے ایسے ایسے بے بہا لعل و جواہر نکلے ہیں جن کی تابانیوں سے پورا ہندوستان مستفید ہوا، جن کے عظیم علمی ادبی، دینی اور روحانی کارنامے سرزمین ہند کی علمی تاریخ میں زرین حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ یہاں کے علماو فضلا، اصفیا وصلحا اہل ہند کے لیے باعث ناز و افتخار تھے ۔
واضح رہے کہ ملک العلما حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین بہاری اورحضرت علامہ سید افضل حسین صاحب مونگیری رحمہما اللہ کے ممتاز تلامذہ اور دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف کے قابل فخر فضلا کی فہرست میں ایک نمایاں نام امام النحو، شارح مسلم حضرت علامہ مفتی محمد بلال احمد نوری پورنوی علیہ الرحمہ کا ہے۔ جو اپنے معاصرین کے درمیان اپنے علم و فضل، اپنے تصلب و استقامت، اپنے تقوی و طہارت اور اپنے اخلاص و ایثار کے لحاظ سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے تھے، اور طبقئہ علما کے درمیان آپ کو نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
*امام* *النحو* *علیہ* *الرحمہ* *کی* *شخصیت* :
امام النحو علیہ الرحمہ اس شخصیت کا نام ہے جس کے تذکرے سے دلوں میں عشق ومحبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جس کے ذکر جمیل سے بجھے ہوئے چراغوں کو روشنی ملتی ہے، جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بے شمار اوصاف وکمالات سے نوازا تھا۔ علوم و فنون کا بیشتر حصہ آپ کو ودیعت فرمایا تھا۔حسن اخلاق، شجاعت و وفاداری، غیرت مندی وہمدردی کی جیتی جاگتی تصویر بنا دیا تھا۔اس کے علاوہ آپ کی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کے ارشادات کے مطابق بسر ہوئی۔ عشق رسول تو گویا گھٹی میں پلا دیا گیا تھا۔ اولیاے کرام اور علماے اہل سنت سے بھی آپ کی عقیدت و محبت گہری تھی۔الغرض اگر آپ کی حیات وخدمات پر تفصیلی گفتگو کی جائے تو اس کے لیے ایک دفتر ناکافی ہے۔
میں اپنی کم علمی اور کم مایگی کے سبب آپ کی بلندو بالا شخصیت پر خامہ فرسائی نہیں کرسکتا، تاہم ہم آپ کے چاہنے والوں کی قطار میں شامل ہونے کی غرض سے چند صفحات ہدیہ قارئین کررہا ہوں تاکہ آپ علیہ الرحمہ کی حیات وخدمات سے قدرے واقفیت حاصل ہو۔
*خاندانی* *پس* *منظر* :
امام النحو علیہ الرحمہ کے جد اعلیٰ، قدیم پورنیہ، بہار (موجودہ کٹیہار) کی معروف بستی"شیشہ باڑی؛ متصل ملک پور ہاٹ سے نقل مکانی کر کے پورنیہ ضلع کی سب ڈویژن بائسی سے تقریباً دس کیلو میٹر جنوب مشرق، مہانندا ندی سے پچھم میں واقع گاؤں"بن گواں؛میں آباد ہوئے۔ آپ کا خاندان نہایت ہی دین دار، متقی پرہیزگار، خوش حال، خوش خصال اور متمول خاندان تھا۔ آپ کی پرانی پیڑھی آسودہ حالی، شیر چشمی اور زمین داری میں اپنی مثال آپ تھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے عزت،شہرت، دولت اور مقبولیت کی تمام تر خوبیوں سے نوازا تھا۔ اسی امیرانہ ونوابانہ گھرانے میں آپ نے اپنی آنھیں کھولیں۔آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
بلال احمد بن حاجی عبد الغنی بن حاجی قدم علی بن حاجی شیر علی۔
*ولادت* *باسعادت* :
آپ کی پیدائش سرکاری کاغذات کے مطابق یکم جنوری ١٩٢٣ء(١٣/جمادی الاولی ١٣٤١ھ) مرقوم ہے۔
*حلیہ* *مبارک* :
رنگ:۔ گورا گندمی
قدو قامت: متوسط۔
سر اقدس:۔ بڑا گول، عام حالات میں ٹوپی اور خاص مواقع پر دستار زیب سر ہوتی تھی۔
چہرہ:۔ نورانی، بزرگانہ چمک جسے دیکھ کر خدا یاد آۓ۔
پیشانی:۔ متوسط، روشن اور آثار تقدس لیے ہوئے۔
بھنویں:۔ ملی ہوئیں، گنجان اور بلند ہالہ نما۔
آنکھیں:۔ چھوٹی، مگر نہایت ہی خوبصورت اور تیز۔
رخسار:۔ بھرے، نرم گداز۔
ناک:۔ متوسط۔
مونچھ:۔ پست، تراشیدہ اور موافق شرع۔
ہونٹ:۔ پتلے، سرخی مائل۔
دانت:۔ چھوٹے، ہموار اور مضبوط۔
کان:۔ مناسب درازی لیے ہوئے۔
داڑھی:۔ درمیانی گھنی، موافق سنت مصطفی علیہ التحیۃ والثنا۔
گردن:۔ معتدل و مناسب۔
سینہ:۔ کشادہ و فراخ۔
ہاتھ:۔ دراز، جودو نوال آثار۔
پاؤں:۔ مناسب متوسط۔
بدن:۔ معتدل، صحت مند اور مظبوط۔
لب و لہجہ:۔ انتہائی شیریں وشگفتہ، مگر کبھی کبھار تیکھا وتیز پن بھی، جو خفگی وجلال کا نتیجہ تھا۔
لباس:۔ بریلی کی خاص وضع کا استعمال کرتے تھے۔ کلی دار کرتا، کھلتا پائجامہ، عام ٹوپی اور خاص مواقع پر متوسط عرض کی دستار زیب سر ہوتی تھی، نیز صدری ضرور ہوتی تھی، لیکن بعد میں جبہ زیب جسم زیادہ رہنے لگا، تو آنکھوں پر عینک اور ہاتھ میں مشائخانہ عصا ہوتا تھا، چلنے میں"لا تمش فى الارض مرحا؛کی سچی تفسیر معلوم ہوتی تھی۔
*تعلیم* *و* *تربیت* :
بچوں کا مستقبل روشن و تابناک بنانے میں ماں باپ کی توجہ اور اساتذہ کی عنایتیں بڑی اہمیت کا حامل ہیں۔ اول اول تو ماں باپ ہی بچوں کی روشن زندگی کا اصل محرک ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اساتذہ کی محنتیں سونے پر سہاگہ کا کام کرتی ہیں۔ امام النحو علیہ الرحمہ فضل باری سے بڑے ہی خوش قسمت تھے، جو اپنی با اخلاق والدہ ماجدہ اور رحیم وکریم والد ماجد عالی جناب الحاج عبد الغنی صاحب کے زیر سایہ رہ کر ان کی تربیت میں پروان چڑھتے رہے۔ خاندان چوں کہ دینی وتہذیبی تھا، سماجی حیثیت خاصی اچھی تھی، اس لیے مذہبی ومعاشرتی رنگ کا چڑھنا لازمی تھا۔ چناں چہ والدین کریمین نے کم سنی ہی میں آپ کو اپنے گاؤں کے مکتب میں داخل کردیا، جہاں آپ نے منشی محمد مظفر حسین، منشی محمد اوصاف علی اور مولانا محمد عباس حسین جیسے اساتذہ سے قاعدہ، قرآن مجید،اردو، املا نویسی، پہاڑے، قدرے ہندی، حساب، فارسی اور اردو عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔اور جب والدین کریمین نےآپ کا دلی لگاؤ علم دین کی طرف زیادہ دیکھا، توسب ڈویژن بائسی کی ایک سنی درس گاہ" مدرسہ شرفیہ، چکلہ چندرگاؤں میں داخل فرمادیا۔ یہاں آپ اپنے بڑے بھائی حافظ و قاری محمد ابراہیم صاحب کے توسل سے گئے تھے۔ یہ مدرسہ اس دور کا نامی گرامی اور بافیض مدرسہ تھا۔ دور دراز کے طلبہ یہاں زیر درس ہوا کرتے تھے۔ اساتذہ سب اچھے کردار اور اچھی قابلیت کے مالک تھے۔ امام النحو علیہ الرحمہ یہاں مسلسل پانچ برسوں تک حصول علم میں مصروف رہے، اور فارسی کی مروجہ کتابیں (جو اس دور کا پورا تعلیمی کورس سمجھا جاتا تھا) حافظ و قاری محمد ابراہیم صاحب،حافظ محمد جمال صاحب،منشی محمد عبد المتین صاحب اور فن نحو و صرف کی ابتدائی کتابیں حضرت علامہ محمد تمیز الدین صاحب علیہ الرحمہ سے حاصل کیں۔
آپ کا تعلیمی سفر مدرسہ شرفیہ چکلہ چندرگاؤں میں 1945ءتا1950ء تک ہے۔
امام النحو علیہ الرحمہ اعلی تعلیم کی حصول کے لیے" مدرسہ لطیفیہ بحرالعلوم؛ کٹیہار ضلع پورنیہ (قدیم) میں داخلہ لیا اور تقریباً تین سالوں یعنی (1953ء) تک بڑی عرق ریزی، جگر کاوی اور جاں سوزی کے ساتھ آپ نے ملک العلما حضرت علامہ سید ظفر الدین بہاری، حضرت علامہ سلیمان اشرف بھاگلپوری، حضرت علامہ محمد یوسف عظیم آبادی اور دوسرے متبحر علما کے خرمنِ علم و فضل سے خوشہ چینی کی۔
یہ سب آپ کے وہ اساتذہ تھے جو آپ کی محنت و لگن،تحقیق و جستجو، معلومات کی گہرائی و گیرائی، بحث و تکرار، مطالعہ سے گوناگوں دل چسپی اور تضیع اوقات سے اجتناب وغیرہ اوصاف دیکھ کر آپ پر خصوصی توجہ فرماتےتھے۔ علم و فضل کے مذکورہ بالا اساطین ملت اور اکابرین دین و شریعت نے جس ذرے کو اپنی تجلیات کی آغوشِ تربیت میں لے لیا اسے امام النحو بننے میں کیا دیر ہوسکتی تھی؟
امام النحو علیہ الرحمہ نے ملک العلماکی درس گاہ"بحرالعلوم؛لطیفی، کٹیہار، سے حدیث، تفسیر، فقہ اور فنون و ادبیات کی تمام تر سیرابی کے بعد مرکز اہل سنت بریلی شریف کا رخ کیا، وارفتگئ عقیدت و فور شوق کے ساتھ کشاں کشاں چل پڑے اور حضور مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے قائم کردہ ادارہ دار العلوم مظہر اسلام بریلی میں داخل ہوگئے اور حضور مفتی اعظم ہند کی عنایت بے کراں اور دارالعلوم کے دیگر اساتذۂ کرام کی مشفقانہ توجہات کی چھاؤں میں رہنے لگے۔ یہاں آپ نےحضرت مفتی سید افضل حسین صاحب مونگیری، علامہ ثناء اللہ صاحب مئوی، محدث وقت حضرت عبد المبین صاحب امروہی، شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق صاحب امجدی اور شیخ الادب حضرت علامہ غلام جیلانی صاحب گھوسوی وغیرہ سے اکتسابِ علم کیا۔
صلابت ذہنی، ذکاوت و فطانت، عمدہ عبارت خوانی، جودت طبع، ندرت فکر، حسن مطالعہ، علمی طلب و جستجو، سعادت شعاری اور اساتذہ سے حسن نیاز مندی کے سبب کچھ ہی مہینوں میں حضور مفتی اعظم ہند اور اساتذۂ کرام کی نگاہوں میں مقبول اور مرکز توجہ ہوگئے اور دارالعلوم کے ممتاز طلبہ میں شمار ہونے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عہد تعلیم سے لے کر عصر تدریس تک حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ آپ پر اپنے خصوصی الطاف و عنایات فرماتے رہے۔
*سند* *فراغت* :
دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف میں تین سال تک بافیض اساتذۂ علم و فن سے اکتسابِ علم حاصل کرنے کے بعد بالآخر 1956ء کے سالانہ اجلاس منعقدہ میں اکابر علماے کرام ومشائخ عظام سے دستار و سند فضیلت سے نوازے گئے۔ یہ آپ کی خصوصیت رہی کہ تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے خود اپنے دست حق پرست سے آپ کے سرپر دستار فضیلت باندھی، اور حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی، امام النحو حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی اور امام المتکلمین حضرت علامہ محمد سلیمان اشرف بھاگلپوری نے تکمیل فرمائی۔
*تبحر* *علمی* :
امام النحو علیہ الرحمہ کی شخصیت آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں۔ آپ ایک زبردست عالم دین، بے بدل صاحب تدریس، بہترین شارح، حق بیان خطیب، ذہانت و فطانت میں فائق، نکتہ رس، دقیقہ سنج،فقہ و اصول، تفسیر و حدیث، معانی و بلاغت۔ مختصر یہ کہ آپ فن نحو و صرف کے علی الاطلاق امام تھے۔
آپ علیہ الرحمہ نے جن ارباب علم و کمال سے اکتسابِ علم کیا، جن اساتذہ کی فیاض بارگاہوں سے حکمت و معرفت کا باڑا لیا تھا، ان میں ہرایک بجائے خود علم و آگہی، فکر و دانش اور استعداد و صلاحیت کا تلاطم خیز سمندر تھا۔ انہوں نے آپ کو اپنے دریائے عرفان سے کامل وافر حصہ دے کر علم ظاہری کا جامع و پیکر بناکر روانہ کیا تھا۔خصوصا حضور مفتی اعظم ہند کی نگاہ کیمیا کا اثر اور حسن تربیت نے آپ کو کندن بنادیا تھا۔ اس لیے امام النحو علیہ الرحمہ درس نظامی کی جملہ کتب کی تدریس پر دستگاہ کامل رکھتے تھے۔ علوم حدیث،اصول حدیث، قرآن و حدیث، فقہ، اصول فقہ اور معقولات و منقولات کے جامع تھے۔ منطق و بلاغت میں بھی یدطولی رکھتے تھے اور فن نحو و صرف کے امام مانے جاتے تھے۔
آپ کے تبحر علمی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کو ہندوستان کے بہترے مشہور اور مرکزی دارالعلوم و جامعات میں تدریسی خدمات انجام دینے کا شرف و فخر حاصل ہے۔
*تدریسی* *خدمات* :
چشمہاے علم و حکمت سے اپنی علمی پیاس بجھانے کے بعد آپ تدریسی میدان میں قدم رنجہ ہوئے، اس لیے کہ استحکام ایمان و عقائد، نشر سنت و شریعت، تبلیغ احکام اسلام کا زرین طریقہ تدریس ہے، جس بنا پر آپ نے اپنی زندگی کا اہم محور تدریس کو بنایا، اور دم واپسیں تک تدریسی شغل جاری رکھا۔اور باستثناے تبلیغی اسفار1956ءتا2017ءمختلف مدارس میں نہایت ذمہ داری، جاں کاہی،جانفشانی، دماغ سوزی وجگر کاوی، خلوص و لگن، جہد مسلسل، عمل پیہم اور کمال مہارت کے ساتھ تشنگان علوم نبوت کو سیراب کرتے رہے۔جن درس گاہوں کی مسند درس و تدریس پر جلوہ فگن ہوکر آپ نے علم و حکمت کے موتی لٹاۓ ان میں سر فہرست"جامعہ منظر اسلام؛ اور "جامعہ مظہر اسلام؛بریلی شریف ہیں۔
خیال رہے کہ زمانہ طالب علمی ہی سے آپ کی پیشانی پر سعادت و ارجمندی کے نقوش آشکارا تھے۔آپ نہایت ہی ذہین و فطین اور اپنے اساتذۂ کرام کے حد درجہ خدمت گزار اطاعت شعار بھی تھے، اورحضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے بھی دور طالب علمی ہی میں آپ کی علمی جلالت اور تدریسی دسترس کو محسوس کرلیا تھا، اس لیے فارغ ہوتے ہی"جامعہ منظر اسلام، بریلی میں بحیثیتِ مدرس آپ کو بحال کر لیا گیا۔یہاں آپ1956ءتا1959ءتک تین سال رہے۔پھرآپ اپنے مادر علمی"جامعہ مظہر اسلام؛ میں آگئے اور 1962ءتک تدریسی خدمات بحسن وخوبی انجام دیں۔
بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں بریلی کی بہاروں نے پھر آپ کو دوبارہ پکارا اور آپ لبیک کہتے ہوئے ہوا کے دوش پر بریلی حاضر ہوگئے، اور اپنے پیرو مرشد کے مرکزی ادارہ"جامعہ مظہر اسلام؛ میں جاکر مسند تدریس پر بیٹھ گئے۔ مسلسل چارسال 1965ءتا1969ءتک اپنے درس و افادہ کا جوہر دکھاتے اور گوہر لٹاتے رہے۔
چوں کہ امام النحو علیہ الرحمہ تدریسی صلاحیت کے تاجور تھے۔ دنیا کی نگاہوں نے دیکھا کہ آپ کے اندر علم و فن اور فضل و کمال کا وہ بانکپن موجود ہے جس کے باعث آپ بڑا سے بڑا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں، اس لیے"جامعہ منظر اسلام؛ بریلی سے پھر دوبارہ بلاوہ آگیا، آپ تعمیل حکم کرتے ہوئےبریلی روانہ ہوگئے جہاں جامعہ منظر اسلام کی درس گاہ آپ کی منتظر تھی آپ نے وہاں (1973ءتا1980ء)تک مسلسل سات برس منصب"شیخ الحدیث؛کو زینت بخشی۔ یہاں آپ اپنے علم و عرفان کے جوہر لٹاتے رہے۔ اس مدت میں آپ نے عمدہ تدریس و تعلیم، طلبہ کی حسین تربیت اور "جامعہ منظر اسلام؛ کے نظام کو سدھارنے کا اہم کردار ادا کیا، جس بنا پر آپ بڑی مقبولیت کے حامل ہوگئے۔ اپنے صلاح و تقویٰ، زہد و ورع، حسن رفتار و گفتار، خوبىٔ افعال و کردار، پختگیٔ علم و عمل کے سبب طلبہ ومنتظمین ادارہ سب کے مرکز توجہ ہوگئے۔ بریلی اور اس کے اطراف و جوانب میں آپ کی شہرت عامہ ہوگئی۔ آپ کے آبدان علم و فضل سے سیرابی لینے کے لیے ہرطرف سے طالبان اسلام کشاں کشاں آنے لگے۔
آپ کی تدریسی زندگی کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تدریسی دور ساٹھ (60) برسوں سے زائد عرصے پر محیط ہے، آپ نے عمر کا اکثر حصہ علم دین کی خدمت گزاری میں صرف فرمایا، اب ذیل میں ان تعلیمی اداروں کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا جارہا ہے، جہاں آپ نے بازار علم سجایا:
"جامعہ منظر اسلام؛ بریلی شریف نو(9)سال،"جامعہ مظہر اسلام؛ بریلی آٹھ(8)سال،"دارالعلوم مصطفائیہ؛چمنی بازار، پورنیہ، بہار چار(4)سال،"جامعہ عربیہ، سلطان پور، یوپی دو(2)سال،"جامعہ نعیمیہ مراد آباد ایک (1)سال،"جامعہ نوریہ، باقر گنج، بریلی تین (3) سال،"دارالعلوم لطیفیہ بحرالعلوم، کٹیہار، بہار دو(2)سال،"جامع اشرف کچھوچھہ شریف ایک (1)سال،"دارالعلوم اہل سنت، کشنگج، بہار ایک (1)سال،"الجامعتہ النظامیہ، ملک پور ہاٹ، کٹیہار، بہار دو(2)سال،"دارالعلوم تاج المدارس، اڑیسہ ایک (1)سال،"جامعہ امجدیہ، بھیونڈی، مہاراشٹر ایک (1)سال،"جامعہ قادریہ اشرفیہ؛ ممبئی پندرہ(15)سال۔
ان کے علاوہ دارالعلوم غریب نواز الہ آباد، اور اتر پردیش کے چند دیگر ادارے میں بھی آپ نے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس طویل مدت میں آپ ہمیشہ ملک کے معروف و مرکزی اداروں سے منسلک رہے اور متعدد عہدے ومناصب کو زینت بخشتے رہے، ابتدائی دور میں بحیثیتِ استاد، پھر شیخ الحدیث، صدر المدرسین اور صدر شعبئہ افتا کے طور پر اپنا علمی و تحقیقی، تدریسی و تربیتی فیضان لٹاتے رہے، اور اس ساٹھ سالہ تدریسی سفر میں لاکھوں تشنگانِ علوم و فنون کو سیراب کیا۔ ذروں کو آفتاب بنایا۔ بے زبانوں کو زبان عطا فرمائی۔ نصف صدی سے زائد پر محیط آپ کے تلامذہ کی تعداد بہت کثیر ہے، جو ملک وبیرون ملک میں اپنی اپنی درس گاہ کے ماہ و نجوم بن کر ایک عالم کو فیض یاب کررہے ہیں، جن میں مدرسین، معلمین،مقررین، مئولفین، مصنفین، محقیقین، مناظرین مفتیان دین،علماےربانیین اور شیخ الحدیث ہیں۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ جیسی عبقری اور قد آور شخصیت آپ کے تلامذہ کی صف میں شامل ہیں۔آپ کے چند مشہور تلامذہ کے اسماے گرامی یہ ہیں:
تاج الشریعہ، مفتی محمد اختر رضا خان بریلوی،مولانا سید محمد ہاشمی میاں کچھوچھوی، مولانا سبحان رضا خان بریلوی، مفتی عبید الرحمن رشیدی، پورنوی، مولانا سید محمد محمود اشرف کچھوچھوی، مولاناسید محمد کاظم پاشا قادری، مولانا سید شاہ محمد اجمل میاں کچھوچھوی، مفتی محمد عارف بریلوی(سابق شیخ الحدیث منظر اسلام)، مولانا محمد حنیف خان رضوی، بریلوی، مفتی محمد ہاشم یوسفی، رشیدی (سابق مفتی دارالافتاء بریلی)، مفتی محمد شبیر پورنوی، مولانا صغیر احمد جوکھن پوری، مفتی محمد شبیر روناہی، حضرت مفتی ناظر اشرف رضوی ناگ پوری، مولانا غلام یزدانی فائق القادری گھوسوی، مولانا صوفی محمد افتخار الہ آبادی، مولانا قاری رضی اللہ چترویدی،مولانا تطہیر احمد رضوی، مولانا قاضی فضل احمد بنارسی، مفتی محمد ایوب مظہر پورنوی، حضرت علامہ سید حسن منظر شروانی، حضرت مولانا فروغ القادری، حضرت مفتی ولی محمد رضوی باسنی، حضرت مولانا انیس القادری ہوڑوی،حضرت مولانا قمر الدین بنگالی، حضرت مفتی محمد ایوب دیناجپوری، حضرت مفتی کاظم رضوی، پورنوی اور حضرت علامہ محمد مقادم رضوی افریقی وغیرہ وغیرہ۔
*مشاہیر* *رفقاے* *درس* :
جن رفقاے درس کی جھرمٹ میں آپ نے مختلف دارالعلوم و جامعات میں تعلیم حاصل کی ان میں اکثر اپنی اپنی جگہ و مقام پر آفتاب و ماہتاب کی حیثیت رکھتے تھے اور عالمگیر شہرت کے حامل تھے۔ امام علم و فن، جلالتہ العلم، شمس العلما اور جامع معقولات و منقولات وغیرہ جیسے علمی القاب و آداب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر تو وصال فرما چکے ہیں، اور جو باحیات ہیں آج بھی زمانہ ان سے فیضیاب ہورہا ہے۔ آپ کے چند رفقاے درس کے اسماے گرامی یہ ہیں:
1۔امام علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین صاحب رضوی، پورنوی
2۔شیر بہار مفتی محمد اسلم صاحب مظفر پوری
3۔جلالتہ العلم حضرت مفتی عبد الجلیل صاحب اشرفی، پورنوی
4۔مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت مجیب اشرف صاحب ناگ پوری
5۔ شمس العلما مفتی محمد غلام مجتبیٰ صاحب اشرفی کشنگنجوی
6۔فاضل جلیل حضرت مفتی محمد عبد الرحیم صاحب بستوی
7۔محدث جلیل حضرت علامہ مفتی عظیم الدین صاحب، کشنگنجوی
8۔نورالعلما حضرت علامہ نور الدین صاحب اسلام پوری
9۔ شیخ العلما حضرت علامہ عبد الرحیم صاحب اتر دیناجپوری
10۔ استاذ العلما حضرت علامہ حبیب الرحمن صاحب کشنگنجوی
11۔ سلطان الاساتذہ حضرت علامہ ماہتاب عالم صاحب اتر دیناجپوری وغیرہ
*بیعت* *و* *خلافت* :
بحمدہ تعالیٰ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر امام النحو علیہ الرحمہ کو شرف بیعت ملا۔یہی کوئی کم فضیلت و برتری کی بات نہیں اس پر جتنا بھی ناز کیا جائے وہ کم ہے، مگر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی نظر عنایت مزید امام النحو علیہ الرحمہ پر ملتفت ومتوجہ ہوئی، تو آپ نے بعد میں جملہ سلاسلِ اربعہ کی اجازت و خلافت سے بھی نوازا۔ یہ وہ تاج کرامت ومقام عظمت ہے جس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے، یہ تو اہل نظر اور ارباب بصیرت ہی سمجھ سکتے ہیں کہ خلافت کوئی معمولی اور آسان چیز نہیں، اس کے لیے ریاضت و مجاہدہ کی جاں گسل وادیوں سے گزنا پڑتا ہے پھر کسی پیر کامل کی چشم و التفات ونگاہ عنایت سے یہ نعمت ملتی ہے۔ اور یہ بھی مسلم ہے کہ سلاسلِ اربعہ خصوصاً سلسلئہ قادریہ رضویہ کی اجازت و خلافت کسی عام انسان کو نہیں ملتی اس کے لیے اہلیت وعلم دین کا ہونا لازم و ضروری ہے اس کے بغیر نہ اسے خلافت کا تمغہ مل سکتا ہے نہ وہ شرعی پیر بننے کا لائق و مستحق ہے۔ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے امام النحو علیہ الرحمہ کی ذات ستودہ صفات میں وہ چیزیں نگاہ ولایت سے دیکھ لیں جن کی بنیاد پر انہیں آغوشِ عظمت میں جگہ دی گئی۔ امام النحو علیہ الرحمہ کا یہی وہ ممتاز ومنفرد وصف وتمغئہ کمال ہے جس کے سبب سے وہ اہل سنت کی آنکھوں کے تارے اور ان کے سروں کا تاج رفعت بن کر اوج ثریا پر چمکے اور عطاۓ ربانی وانعام رحمانی سے وہ عظمت و جلالت کے بام عروج و ترقی پر فائز و متمکن ہوئے۔
آپ کے دانش وبینش علمی جاہ و جلال اور علمی استقامت و تقویٰ کو دیکھ کرملک العلما حضرت علامہ سید ظفر الدین بہاری، حضرت علامہ سردار احمد لائل پوری اور حضرت علامہ احسان علی مظفر پوری رحمہم اللہ نےسلاسل تصوف و طریقت کی اجازت و خلافت سے نوازا۔
*خلفا* *ومریدین* :
چوں کہ آپ ایک علمی ودرسگاہی شخصیت کے حامل تھے، اس لیے عرصئہ دراز تک پیری مریدی کی طرف توجہ مبذول نہ کی، اور اپنے بزرگوں کی دی ہوئی روحانی امانتوں کے صرف امین رہے، اور ان پاکیزہ نسبتوں کی بہاروں اور برکتوں سے خود ہی مالا مال ہوتے رہے، لیکن بادلوں میں سورج کب تک چھپا رہتا۔عوام و خواص کے بےحد اسرار پرعمرکےآخری ادوار میں یہ سلسلئہ حسنات و برکات بھی آپ نے شروع فرمادیا تھا۔ ہزارہا افراد وابستئہ دامن تھے۔ چوں کہ ضعیفی کا عالم تھا۔ سفر مشکل سے ہوتا تھا۔ عموماً لوگ خود ہی آکر داخل سلسلہ ہوتے تھے، اور کبھی کبھار اپنے عقیدت مندوں کی دل جوئی کی خاطر سہولت و آرام کا مکمل خیال رکھتے ہوئے دعوتی و تبلیغی دورے پر تشریف لے جاتے تھے۔ اور حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ اس بات کا خاص خیال رکھا کہ نذرانے کو کبھی نہیں دیکھا اور نہ اسے کسی قیمت پر ترجیح دی۔آپ کے مریدوں کا حلقہ بطور خاص کلکتہ، ممبئی، بلرام پور یوپی، بارہ بنکی یوپی، دہلی، مہاراشٹر، تاراپور اور جزیرہ دیوو دمن وغیرہ میں ہے۔
آپ نے چندعلما کو اجازت و خلافت سے بھی نوازا تھا، جن کے نام یہ ہیں:
1۔حضرت علامہ محمد فخرالدین صاحب حشمتی گونڈہ، یوپی۔
2۔ حضرت مولانا حافظ محمد حبیب رضا صاحب بلرام پور، یوپی۔
3۔ حضرت مولانامحمد سلیم الرحمن صاحب پورنوی
4۔ حضرت مولانا محمد مبارک حسین صاحب پورنوی
5۔ حضرت علامہ محمد رفیق القادری صاحب گجرات
6۔حضرت مولانا محمد غلام رسول صاحب قادری پورنوی
7۔حضرت مفتی محمد ابرار صاحب یوپی
8۔ حضرت مفتی زین العابدین صاحب کشی نگر، یوپی
9۔ حضرت مولانا وقار احمد عزیزی صاحب بھیونڈی، ممبئی
10۔ حضرت مولانامحمد معراج صاحب کلکتہ
11۔الحاج محمد عبد المجید صاحب ممبئی
12۔ اور اپنے صاحبزادے حضرت مولانا محمد افضال احمد رضوی صاحب بنگواں، بائسی وغیرہ
*شادی* ، *اولادو* *امجاد* :
"جامعہ منظر اسلام؛ بریلی میں دوران تدریس 1961ءمیں آپ رشتئہ ازدواج سے منسلک ہوۓ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو تین صاحب زادے اور دو صاحب زادیاں عطا فرمائی۔بڑے صاحب زادے ماسٹرمحمد جلال احمد نوری سرکاری اسکول کے ٹیچر ہیں، ولد اوسط حضرت مولانا افضال احمد نوری بھی ایک سرکاری اسکول کے مدرس ہیں اور تیسرے محمد حسین احمد نوری کپڑے کی دکان کرتے ہیں۔
*زیارت* *حرمین* *شریفین* :
امام النحو علیہ الرحمہ کو حج بیت اللہ کی دولت اور زیارت حرمین شریفین کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ آپ 1997ءمیں حرمین شریفین کا مباک سفر کیا، اور حج و زیارت حرمین شریفین سے اپنے آپ کو مشرف فرمایا۔ یہی وہ سال تھا جب میدان منی شریف میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
*تواضع* *و* *انکساری* :
سرکار علیہ السلام کا فرمان عالیشان ہے:
"جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو بلند کرے گا وہ خود کو حقیر سمجھے گا جبکہ وہ لوگوں کی نگاہوں میں عظیم ہوگا، اور جو شخص تکبر کرے گا اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے مرتبہ کو گھٹاۓ گا اور وہ لوگوں کی نگاہوں میں حقیر ہوگا، لیکن وہ خود کو بڑا سمجھے گا یہاں تک کہ وہ لوگوں کی نظروں میں کتے یا خنزیر سے بھی زیادہ حقیر ہوگا۔
(مشکوۃ شریف)
اس حدیث پاک کی روشنی میں جب ہم حضرت امام النحو علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ کی پوری زندگی تواضع و انکساری کا پیکر تھی۔ خود بینی اور خود نمائی جیسے اوصاف رذیلہ سے آپ پاک و صاف اور منزہ تھے۔آپ اپنے وقت کے جید عالم دین، درجنوں ادارے کے صدر المدرسین، شیخ الحدیث اور سرپرست رہ چکے تھے۔سینکڑوں علما ودانشوران اسلام کے استاد و مربی اور مختلف علوم و فنون کے ماہر تھے، مگر اس کے باوجود ترفع وتعلی، کبرو نخوت، خود ستائی، زعم ہمہ دانی سے کوسوں دور تھے۔ طرز زندگی، لباس، اکل و شرب، نشست وبرخاست، رفتار و گفتار سےعیاں ہوتا تھا کہ عجزو انکساری، تواضع و سادگی گویا آپ کی فطرت تھی۔ عوام ہوں یا خواص سب کے ساتھ حسن سلوک، خندہ پیشانی اور تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے تھے۔ اپنے سے فرو تر اور دوسرے کو خود سے بالاتر سمجھتے تھے، زہد و تقویٰ کےعظیم مقام پر فائز ہونے کے باوجود ہم جیسے گناہ گاروں کی قدر و منزلت آپ کے دل میں تھی۔ آپ ہمیشہ نفس کشی کرتے اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے نفس امارہ کی غلامی سے بچنے کی دعا کرتے تھے۔
*تقویٰ* *و* *پرہیزگاری* :
تقویٰ کیا ہے؟
تقویٰ کی تشریح کرتے ہوئے حضور صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
تقویٰ کے کئی مراتب ہیں:
1۔عوام کا تقویٰ
2۔ خاص کا تقویٰ
3۔ اور خاص الخاص کا تقویٰ
عوام کا تقویٰ ایمان لاکر کفر سے بچنا۔
خاص کا تقویٰ اوامر(احکام) و نواہی (جن چیزوں سے منع کیا گیا) کی اطاعت کرنا۔
خاص الخاص کا تقویٰ ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالیٰ سے غاغل کردے۔
امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ، تقویٰ سات قسموں پر منقسم ہے:
1۔کفر سے بچنا
2۔بد مذہبی سے بچنا
3۔ہر کبیرہ سے بچنا
4۔صغائرسےبھی بچنا
5۔شبہات سے احتراز
6۔شہوات سے بچنا
7۔غیرکی طرف التفات سے بچنا۔
نیز یہ بھی منقول ہے کہ، نفس کو خوف کی چیز سے بچانا، اور عرف شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ متقی وہ ہےجو شرک وکبائر و فواحش سے بچے۔ بعضوں نے کہا ہے متقی وہ ہےجو اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر نہ سمجھے۔ بعض کا قول ہے تقویٰ حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور اطاعت پر غرور کا ترک تقویٰ ہے۔ بعض نے کہا تقویٰ یہ ہے کہ تیرا مولیٰ تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا۔ ایک قول یہ ہے کہ حضور علیہ السلام اور صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کا نام تقویٰ ہے۔
(خزائن العرفان)
امام النحو علیہ الرحمہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پوری زندگی خشیت الٰہی کا مظاہرہ کیا۔ تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنا شعار زندگی بنایا۔ طہارت و پاکیزگی کو دستور حیات سمجھا۔ احکام الہیہ وقوانین فطرت اسلام پر عمل کرنے کو اپنا نصب العین قرار دیا یعنی پہلے خود عمل کیا پھر دنیا کو عمل کی دعوت دی، یہی وجہ ہے کہ امام النحو علیہ الرحمہ کی دعوت و ہدایت مؤثر و مفید ثابت ہوئی اور ان کی داعیانہ زندگی ابھر کر سامنے آئی۔
آپ علیہ الرحمہ تاحیات اپنے تلامذہ، معتقدین، متوسلین اور مریدین کو سنت و اتباع سنت کا درس دیتے رہے اور عملی طور پر اپنی زندگی میں اسے خود کرکے بھی دکھاتے رہے، آپ کی زندگی نہایت ہی پاک و صاف اور مقدس تھی۔ چلنا پھرنا، سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا سب کچھ قرآن و سنت اور شریعت اسلامیہ کے مطابق تھی ۔ ظاہر و باطن یکساں تھا، اکل حلال اور صدق مقال آپ کا شیوہ تھا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت، معاملات کی صفائی، خطا اور قصور کو معاف کرنا آپ کا معمول تھا، اطاعت خداوندی، اتباع سنت نبوی، فرائض و واجبات کی پابندی، ارتکاب محرمات سے اجتناب، ترک نفسانیت، آداب شریعت کی محافظت یہ سارے اوصاف آپ میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ سفر ہو یا حضر فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات کی پابندی کاخاص خیال رکھتے تھے۔ نماز جیسی اہم العبادات سے غیر معمولی شغف تھا۔ سخت سے سخت مشکل اور شدید بیماری میں بھی آپ کا قدم حد شرع سے باہر نہیں جاتا تھا۔ گویا کہ تقویٰ و طہارت میں آپ یکتاۓروز اور فقید المثال شخص تھے آپ کی ایک ایک ادا پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔اہل سنت و جماعت کے لیے آپ کی ذات مطہرہ سراپا برکت و رحمت تھی۔ انسانی دنیا میں ایسی ہستیاں کبھی کبھی جنم لیتی ہیں۔
*وصال* *پر* *ملال* :
علم و فن اور عزیمت و استقامت کا یہ آفتاب نصف صدی سے زائد عرصے تک اپنے علم و تحقیق سے دنیا کو روشن کرنے کے بعد بالآخر 23/جمادی الاول 1439ھ/10فروری,2018ء، بوقت صبح ساڑھے دس بجے ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔
*نماز* *جنازہ* :
24, جمادی الاول 1439ھ/11,فروری 2018ءبروزاتوار، صبح دس بجے آپ کے آبائی وطن" بن گواں؛ بائسی، ضلع پورنیہ، بہار میں تاج السنہ حضرت مولانا محمدتوصیف رضا خان صاحب بریلوی نے پڑھائی، جس میں سیمانچل کے مسلم اکثریتی علاقہ ( پورنیہ، کٹیہار، کشن گنج، ارریہ، اتر دیناجپور) کے علاوہ دیگر اضلاع سے امنڈتے ہوئے سیلاب کی طرح بکثرت محبین، معتقدین، تلامذہ اور مستفدین نے شرکت فرمائی۔
*مزار* *پر* *انوار* :
آپ کا مزار پاک آپ کے آبائی گاؤں"بن گواں؛ میں شیخ کامل حضرت صوفی محمد عبدالصمد علیہ الرحمہ کے آستانئہ عالیہ سےپورب طرف زیارت گاہ خاص و عام ہے۔
دعا ہے کہ مولاے قدیر ہم سب کو اخلاص کے ساتھ خدمت دین کی توفیق مرحمت فرمائے، اپنے علما اور بزرگو کے نقش قدم پر چلاۓ، اور تادم واپسیں ہم سب کو مذہب مہذب اہل سنت وجماعت پہ قائم و دائم رکھے، اور حضرت امام النحو علیہ الرحمہ کی تربت انور پر رحمت و نور کے ساون بھادو برساۓ۔
آمين، بجاه حبيبه سيد المرسلين وعلى آله اكرم الصلاة والتسليم۔
گیارہ (11) ربیع الاول شریف
18,10,2021
9661106786,7667333209
Comments
Post a Comment