حالات ‏حاضرہ

____________

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
سیمانچل سمیت پورے مملکت بنگالہ میں انگریزوں کی آمد سے قبل اسی 80/ہزار مدارس اور تین ہزارخانقاہیں قائم تھیں، ان مدارس اسلامیہ کے کفالت کی بارراجامہاراجااور زمین داران ونوابوں کی جیب خاص پرتھی،اور جن خانقاہوں میں مدارس ومکاتب قائم تھے،توان میں بھی اکثریت کے لئے وقف جائداد کاانتظام تھا،علاوہ ازیں نذرانوں اور تحفہ وتحائف کی صورت میں جوکچھ میسرہوتا،انہیں بھی مدارس کےمصرف میں لایاجاتاتھا،اس لئے اس زمانے میں مدارس ومکاتب کی مالی واقتصادی حالت کے بحران ہونے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتاتھا۔

عہدجمہوریہ میں بھی دو قسم کے مدارس قائم ہیں،پہلی قسم تووہی ہے جن کے بارے میں کہہ سکتے ہیں،کہ عہد بادشاہی میں شہرودیہات کے بیچ راجہ اور زمین داروں کی کفالت میں مدارس چل رہے تھے،عصرحاضرمیں راجہ مہاراجاؤں اور زمین داران کی طرح مدارس کی یہ قسم نیست ونابودنہیں ہوئے،بلکہ عالیہ مدارس کی صورت میں آج بھی موجودہیں،اور ان کے اخراجات کی بارجمہوری حکومت اٹھارہی ہے۔ 
دوسرے قسم کے مدارس کوتعلیمی اعتبارسے نظامیہ مدرسہ کہاجاتاہے،لیکن یہ عمومی طور پردومختلف نظام عمل میں بٹے ہوئے ہیں،پہلی قسم کے مدارس جو بعض خانقاہوں کے ماتحت ہیں ،ان پرخانقاہی نظام نافذ العمل ہیں،آج بھی یہ مدارس متمول ہیں،کیونکہ ان کو مالی تعاون بہ سہولت عقیدت مندوں کے نذرونیازاورتحفہ وتحائف کی صورت میں حاصل ہوجاتی ہے۔ 
جبکہ دوسری قسم کےنظامیہ مدارس جنہیں علمائے اسلام نے ہر قریہ وبستی میں بکثرت قائم کردیں،اورخود سائڈ ہوکر انہیں قوم کے حوالے کردیا،توان مدارس کے اخراجات کی باربھی حکومت کی بجائے عوام کے جیب خاص پر آگئی،ان کے ساتھ دقت یہ ہے کہ انہیں بآسانی رقومات کی دستیابی نہیں ہوتی،کیونکہ یہاں پر نذرہے نہ نیاز،جوکچھ ہے وہ اہل دردعوام مسلمین کی جیب خاص پرموقوف ہے،اس لئے ان مدارس کے جاہل منتظمین نے علماء کے ساتھ انصاف کابرتاؤ نہیں کیا،نہیں معلوم کہ ان جاہلوں نےعلماء کو کثرت سے مدارس قائم کرنے کی سزادی ہے،یاان کومدارس کی کمیٹی و ممبربنانے کی پاداش میں دشمنی نکال رہےہیں،حالانکہ علماء کاخیال تھاکہ مالی واقتصادی حالت کو کمیٹی وممبران حضرات سنبھال لیں گے تو تعلیمی صورت حال کوعلمائے کرام نہ صرف سنبھالیں گے بلکہ اس کے معیارکوبھی بلندکردیں گے،مگریہاں پرالٹی آنت گلے پڑگئی،جنہیں تعلیم وتعلم کے معیارکوبام فلک کی دہلیز تک پہنچاناتھا،انہیں ہی مدارس کی مالی پیداواریعنی اقتصادی مشن کا مشین بنادیا،جس سےتعلیمی معیار بگڑنالازمی تھا،لہذااسلامی تعلیم سے نابلدعوام کو مدارس کامنتظم بنانے کے نتیجے میں نہ صرف مالی ومعاشی حالت متاثرہوئی،یہاں تک کہ مالی واقتصادی طور پرنیم مردہ ہوگیا،بلکہ تعلیمی پس ماندگی بھی اپنی انتہاکوپہنچ گئی،اس کے ذمہ دار بھی موجودہ دور کے اکثر کمیٹی وممبران ہی ہیں،کیونکہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کابارخودنہ سنبھال کرکسی اور کے نازک دوش پر رکھ دیاہے۔ 
غورکیجئےکہ علماء کرام کدھرکدھرجائیں،اپنےگھر سنبھالے،مدرسےکی معاشی حالت کوسنبھالے،تعلیم دیں یاپھرتعلیمی معیارکوبلندکرنے کی فکرکریں،اورخوش قسمتی سےعلمائے کرام گھرسے لیکر مدارس تک کی تمام حالات کو سنبھالےہوئے ہیں،بلکہ اکثرمدارس کے سب کچھ کرتادھرتا علماء کرام ہی ہیں،مالی واقتصادی اورتعلیمی دونوں شعبہ جات کوبحسن وخوبی سنبھالے ہوئے ہیں،مگراس کےباوجودجب مشاہرہ دینے کی تاریخ آتی ہے،توجاہل کمیٹی سے جب تک تین چار بارعارضی پیش نہ کی جائے تنخواہ نہیں دیتے ،خیریہ میرا موضوع نہیں ہے،اس لئے ان چند جملوں کے لئےمعذرت خواہ ہیں۔ 
کمیٹی!چندباحوصلہ وباعظمت لوگوں کےمنظم اوراکٹھاہوکرکسی بھی ملکی وملی اوردینی ومسلکی ضرورت کوپوراکرنے کےلئےمتحدہونےکانام تحریک وتنظیم یاکمیٹی ہے،یہ تنظیم ملکی اورملی طورپرعظیم الشان بھی ہوسکتی ہے،اورصوبائی وعلاقائی بلکہ ضلعی اور تحصیلی طورپرقلیل الشان بھی،تنظیم چاہے چھوٹی ہویابڑی ،مقاصدکے لحاظ سےتنظیم بالاآخر تنظیم ہوتی ہے،اوراس کےمعیارکی بلندی وپستی ان کےمحرکین کی فلک پئماپروازخیال،عزم وحوصلگی کی بلندی پرمنحصرہیں، اگرمحرکین حاکمانہ ذہنیت کوترک کرکےہمت شکنی وتن آسانی کی روایت جاری نہ رکھیں،اورعلمائے کرام کی بجائے خودہمہ دم متحرک وفعال رہے تواقتصادیات کی دنیامیں اپنی لافانی و انمٹ خدمات و کارنامے کے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔ 
چونکہ مدارس ہو یا دارالعلوم اس کی بقاودوام کا مدار و انحصار اس کے اراکین کی حرکت و عمل پر ہے،اگر اراکین مدارس کے تئیں مخلص ہیں،اور خلوص و للہیت سے اس کے لئے حرکت و عمل کر رہا ہے تو وہ مدارس زندہ ہیں اور جب تک حرکت و عمل کرتا رہے گامدارس بھی زندہ رہیں گے،اور جس دن محرکین جمودو تعطل کا شکار ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ مدارس موت کے گھاٹ اتر جائیں گے ۔ 
اوراس بات کوبھی واضح کئےدیتاہوں کہ موجودہ دورمیں اکثرمدارس جیسےبھی ہوچل رہے ہیں ،وہ علماء کرام کی مرہون منت ہیں،انہیں کی محنت کاثمرہ ہے،اس میں کمیٹی وٹرسٹیان کی رتی بھربھی سعی وکوشش کودخل نہیں ہے،کیونکہ مدارس کوچلانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رقومات کی بازیابی ہے،جس کی بر آمدگی کے لئے علمائے کرام جی توڑ کوشش فرماتے ہیں،اور اسی محنت کے نتیجہ میں سال بھرتک بے فکری سے مدارس کے اخراجات کمیٹی وٹرسٹیان پورے کرتے ہیں۔ 
اس لئےدورحاضر کی اکثر مدارس مالی واقتصادی طورپرابتداہی سےنیم مردہ حالت کے شکاررہے ہیں،مدارس کی اکثریت سیمانچل کی دھرتی پرکبھی خودمتکفل نہیں تھی،اور اگر مدارس کے کمیٹی وٹرسٹیان سابقہ روایات پر اسی طرح عمل پیرارہے،توامید ہےکہ صبح قیامت تک کبھی خودمتکفل نہیں ہوسکتے،شایدانہیں غیرمتکفل مدارس کودیکھ کرکسی نےجبری استحصالی طورپرایک شعر کےذریعہ اس حقیقت افگیں بات کی عکاسی کر ڈالی ہے،ملاحظہ فرمالیجئے۔ ؎ 
کریما بہ بخشائے برحال بندہ کہ ہستم اسیرمدرسہ کمیٹی وچندہ 
لہذاموجودہ دورکے اکثرمدارس کی اقتصادی حالت واقعی نہ صرف چندہ کے اسیروقیدی ہیں،بلکہ مدارس کی بقاء ودوامی کاانحصار چندہ ہی کی مرہون منت ہے،اگرایک سال علمائے کرام چندہ کرنے نہ جائیں، تومدارس کی حالت نہایت ابتر ہوجائے،بلکہ بندہونے کی کگارمیں آجائے،اس کاتازہ نمونہ امسال2020 میں لاکڈاؤن کی وجہ سے مدارس کی جوحالت ہوگئی ہے،اسے خوداپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں ۔ 
چونکہ یہ بات اظہرمن الشمس ہیں کہ مدارس کوچلانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی اقتصاد کی قلت ہے،یہ صرف نئے مدارس کی راہ میں ہی نہیں بلکہ قدیم مدارس کے راستےمیں بھی بڑی رکاوٹ ہے،کیونکہ موجودہ دورمیں مدارس اسلامیہ کی دوام وبقا کاانحصارعوام مسلمین کی جیب خاص پرموقوف ہے،جس کی بناپر عوام بھی ایک حد تک چندہ دینےسےخائف نظرآتے ہیں،اور کبھی کبھی کثرت مدارس کاحوالہ دیکر جان بھی چھڑالیتے ہیں،اس لئے مدارس کااقتصادی طورپربحران کاشکارہونے کی یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

لہذا مدارس اسلامیہ کی مالی واقتصادی بحران کے شکارہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہے،مگرمیری نگاہ میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ،،کمیٹی وممبران کا مدارس کے تئیں اپنی ذمہ داری کونہ سمجھنا،یاجان بوجھ کر اعراض کرنا،،مطلب یہ ہے کہ مدارس میں کمیٹی اس لئے بنائی جاتی ہے کہ وہ شعبہ مالیات کونہ صرف فروغ دے بلکہ مالی اقتصادی بحران کوقریب پھٹکنے بھی نہ دیں،مدارس کومالی طورپرخود متکفل بنادے،تاکہ کسی بھی ان ہونی صورت حال کامقابلہ کیاجاسکے،عوام مسلمین کےچندہ پرمنحصروموقوف نہ رہیں،بلکہ مدارس کی اقتصادی حالت کوبہتر سے بہتر بنانے کے لئےلائحہ عمل زیرغور لائیں۔ 
حقیرتواس لائق نہیں ہے کہ مدارس کی مالی واقتصادی بحران کاحل پیش کرے،البتہ بطور مشورہ حل کی چندصورت وشباہت نمبروارپیش کیاجاتاہے۔ 
(1) پہلی بات تویہ ہےکہ مدارس کےتئیں اراکین اربعہ سے لیکر جملہ ممبران کواپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی،اور ذہن میں اس بات کو بٹھالینا ہے کہ مدارس کی معاشی ومالی شعبہ کوسنبھالنے کےتمام تر ذمہ دارکمیٹی وٹرسٹیان کی ہیں،علمائے کرام کی نہیں۔ 
(2) بعض کمیٹی وٹرسٹیان مدارس کے فنڈ سے اپنی تجارت کوچارچاندلگارہے ہیں،لیکن وہی کام دوچارمزدوروں کورکھ کر مدارس کے لئےبھی کیاجاسکتاہے،جس کی ساری آمدنی مدارس کے فنڈ میں جمع ہوں گے۔ 
(3) ابتداً چھوٹے موٹے بزنس پرہاتھ صاف کیاجائے،پھرجب فنڈمیں رقومات کی زیادتی ہواس کے حساب سےتجارت کوآگے بڑھایاجائے۔ 
(4) مدرسہ کے نام پر منقولہ اور غیرمنقولہ جائدادحاصل کریں،ان میں شاپنگ محل یامکان تعمیرکرکےکرائے پر اٹھادئے جائیں۔ 
(5) قابل کاشت زمین خریدکرانہیں کسان کےحوالےکردیاجائے،اوراناج کومروجہ وقت کےحساب سے تقسیم کرلیں،جس سے مدارس میں اشیاء خوردنی کی قلت کاخاتمہ ہوگا۔ 
(6) مدارس کی جانب سے رسائل وجرائد کااجراء کیاجائے،جس سےخود مدارس میں تعلم وتعلم کاماحول بنے گا،اور سماج ومعاشرہ میں بھی علمی دوردورہ ہوگا۔ 
(7) پریس اور اشاعت گھر قائم کرنا،اس میں دوسرےناشرین اورکتب فروشوں کو بطورایجنٹ مقررکریں۔ 
(8) علمائے کرام کو اطمنان بخش مشاہرہ سے نوازیں،بلکہ گاہ بہ گاہ انہیں انکی تعلیمی خدمات کااطمنان بخش حوالہ دیکر انعام واکرام سے نوازیں،کہ ان کے وجود سے ہی کھلا ہے کائناتِ مدرسہ کاروزن،وہ نہیں تومدرسہ بھی نہیں۔ 
ان تمام گزارشات سے مجھے یقین ہےکہ اس پراگرعمل کرلیاجائے،تو نہ صرف مدارس کی اقتصادی ومعاشی بحران کاخاتمہ ہوگا،بلکہ تعلیمی بدحالی پربھی قدغن لگے گا،اللہ تعالیٰ ہم سب کوعمل کرنے کی توفیق انیق عطافرمائے۔ 
آمین بجاہ نبی سیدالمرسلین ﷺ 


محمدساجد رضاقادری رضوی 
جگناتھ پور(موضع بیلوا)آبادپوربارسوئی کٹیہاربہار 
موبائل نمبر 7970960753 



Comments

Post a Comment