وہابیت کے باطل ہونے کا ایک لاجواب پیمانہ
وہابیت کے باطل ہونے کا ایک لاجواب
پیمانہ
وہابیت ایک ایسا بدقسمت فرقہ ہے جس کے ظہورسےقبل
ہی پیغمرامن وآشتی ﷺنے ان کی خرافات وبدعات،اس کی کم عقلی اور بے وقوفی،اس کی فتنہ
انگیزی و فتنہ پروری،اسلام دشمنی،مسلم کشی اور کفروکفاردوستی غرض کہ ایک ایک نقش کو
بیان فرمادیا ہے،یہاں تک کہ اس کی گمراہیت کا پروانہ بھی جاری فرمادیا ہے،اس پروانے
پر اگر تھوڑا ساغور کیاجائے تو امت مسلمہ وہابیت کی وبا سے محفوظ رہ سکتی ہے، ملاحظہ
کیجئے،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔
اشار رسول اللہ ﷺ بیدہ نحو الیمن فقال
الایمان الا ان الفتنۃ وغلظۃ القلوب فی الفدادین عند اصول اذناب الابل حیث یطلع
قرنا الشیطان فی ربیعۃ ومضر۔
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اشارہ کیا اور
فرمایا کہ ایمان یمنی ہے اور آگاہ ہوجاؤ فتنہ اور سخت دلی اونٹوں کی دموں کے قریب چلانے
والوں مضرو ربیعہ میں ہے جہاں سے شیطان کے سینگ نکلیں گے۔
مسلم شریف جلداول،ص۲۵۔بخاری شریف جلد اول،ص۶۶۴
مذکورہ بالا حدیث شریف میں غور کامقام یہ ہے کہ
غیب داں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یمنی ہے،یہ
جملہ اہل یمن کے لئے ایک سرٹیفکٹ ہے،کہ اگر ساری دنیا کے لوگ کفروالحاد کا شکار ہوجائے
تو پھر بھی یمن میں اہل ایمان واسلام کا وجودضرور رہے گا۔لہذا حدیث مذکور ہ کی بنا
پر اہل یمن کو جو لوگ کافرومشرک کہتے ہیں،ان کے ایمان واسلام کا انجام کیا ہوگا،اس
بات کو معلوم کرنے کے لئے اس مقام پردو حدیث شریف ملاحظہ فرمالیجئے۔
عن ابن عمر ان النبی ﷺ قال اذا کفر الرجل اخاہ فقد باء بھا احدھما۔
آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔جب کسی مرد نے
اپنے بھائی کوکافر کہا تو وہ کفر دونوں میں سے کسی پر ضرور پلٹے گا۔
عن ابن عمر قال رسول اللہ ﷺ ایما امری قال
لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما ان کان کما قال والا رجعت علیہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کوکا
فر کہہ کر پکارے تو دونوں میں سے ایک پر کفر آجائے گا۔اگر وہ شخص جس کو اس نے پکارا
کافر ہے تو خیر (کفر اس پر رہے گا)ورنہ پکارنے والے پر لوٹ آئے گا۔
مسلم شریف
مترجم از مولوی وحیدالزمان غیرمقلد جلد اول ص ۷۶۱
ان دونوں احادیث کی چند طور پر علماء نے تاویلیں
کیں،امام نوی علیہ الرحمہ نے جوآخری تاویل کی وہ یہ ہے کہ،،مراد پلٹنے سے اس کی تکفیر
کا پلٹنا ہے،یعنی اس نے جو ایک مسلمان کو کافر کہا اور وہ کافر نہیں تو اس نے خود اپنی
تکفیر کی۔
لہذا اہل یمن کا ایمان ایک کسوٹی ہے،غلوے توحید
میں بہنے والے نجد کے وہابیوں کا اگر ایمان اہل یمن کے مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق
ہے توبارگاہ خداورسول میں مقبول ہوگا،ورنہ ان کی توحید عذاب قبر وحشر میں کوئی کام
نہیں آئے گی، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اہل یمن پر نجدی تحریک کاکچھ بھی اثر نہیں ہے،اس
لئے نجد کے وہابیہ جہاں پراپنے علاوہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کوکافر ومشرک قرار
تو دیا ہی،اوران کے اموال کو غنیمت کامال اور ان کو مستحل الدم یعنی ان کے قتل کو باعث
ثواب شمار کرتارہا،جیساکہ قاضی شوکانی کے اعتراف کو مولانا منظور نعمانی دیوبندی نے
لکھا ہے۔
علامہ قاضی شوکانی اور ان کے بعض تلامذہ جیسے حضرات
نے بھی یہ بات لکھی ہے،کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی جماعت کے لوگ اپنے سوا سب مسلمانوں
کو کافر،مشرک اور مباح الدم سمجھتے ہیں۔
شیخ محمدبن عبدالوہاب کے خلاف پروپگنڈہ، ص 105
چنانچہ
ساری دنیا کے لوگ اگر دین اسلام سے پھر جائے تو ممکن ہے مگر یمن میں اہل ایمان کا وجودقیامت
تک باقی رہے گا،کیونکہ ان کے ایمان کی سند اورقیامت تک باقی رہنے کی خوشخبری خود غیب
داں نبی ﷺ نے دی تھی،اس لئے ساری دنیاٹل سکتی ہے مگر آقا کریم کی بات نہیں ٹل سکتی،مگرنجد
کے کافر دوستوں نے ان کو بھی نہیں بخشا،انہیں بھی کافرومشرک اور مستحل الدم قرار دیا
ہے،جیساکہ اس بات کی شہادت دیوبندی عالم مولوی منظور نعمانی قاضی شوکانی کے حوالے سے
دیتے ہوئے لکھا ہے۔
ہمارے یمن کے حاجیوں کے قافلہ کے امیر الحجاج السیدمحمدبن
حسین المراجلی نے خود مجھ سے (علامہ قاضی شوکانی)بیان کیا کہ ہمارے قافلہ کو نجدی جماعت
کی ایک ٹولی ملی تو اس نے مجھے اور میرے ساتھ والے یمن کے سارے حاجیوں کو،،کفار،،کہہ
کے خطاب کیا(ان جماعۃًمنھم خاطبوہ ھو ومن معہ فی حجاج الیمن
بانھم کفار)۔
(البدرالطالع ج،۳،ص ۵)بحوالہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کے خلاف
پروپگنڈہ، ص ۲۳۱
اس واقعہ کے بعد ماننا پڑے گا کہ ناعاقبت اندیش
نجد کے وہابیوں کی توحید اہل یمن کی توحید کے برخلاف ہے،اور مردود ہے،ان کی توحید کسی
کام کی نہیں،اہل یمن کی تکفیر کرکے اس نے خود اپنے اوپرکفر کو متوالہ بنا لیا،اور آج
بھی بڑی شدت سے وہابیوں کا اس پر عمل ہے،اپنی اس تکفیر سے رجوع نہیں کیاہے۔غورکیجئے
کہ جن کو ایمان ویقین کی ڈگری بارگاہ نبوت
سے ملی ہو،اسے کافر قرار دینا،کفراپنے اوپرپلٹانا ہے یانہیں؟
محمد ساجد رضاقادری رضوی
مقیم حال حیدرآباد
08/01/2021
Comments
Post a Comment