سیمانچل اور اس کے اطراف میں وہابیت کے تباہ کن اثرات
سیمانچل اور اس کے اطراف
میں
وہابیت کے تباہ کن اثرات
مرتب
محمد ساجدرضا قادری رضوی
ناشر
سنی سنٹر اتر ٹولہ جگناتھ پور آباد پوربارسوئی
کٹیہار بہار پن نمبر ۸۵۵۱۰۲
نام کتاب سیمانچل اور اس کے اطراف میں وہابیت کے
تباہ کن اثرات
مؤلف
محمد ساجد رضا قادری رضوی
سن تالیف 2016
مؤلف کا پتہ
جگناتھ پور (موضع بیلوا)۔۔پوسٹ
سنکولہ۔۔تھانہ ۔آبادپور
وایا۔بارسوئی۔ضلع۔کٹیہار بہار
پن۔855102
مقیم حال
مدرس شعبہ حفظ و قرآت جامعہ نظامیہ مہاراج
پور۔تھانہ۔پوکھریا ضلع مالدہ بنگال
امام جامع مسجد مدھیہ پاڑہ مہاراج پور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
)دعوت و تبلیغ کے حوالے سے(
سیمانچل مشرقی بہار کے اضلاع قدیم پورنیہ یعنی
پورنیہ کٹیہار،ارریہ،کشن گنج اور مالدہ مغربی بنگال کو کہتے ہیں،یہ اضلاع خامسہ ا
نگریزی عہد اقتدار میں ایک ضلع،،پورنیہ،،پر مشتمل تھا، اس خطہ کو فلک اور اجرام
فلکی نے نہ جانے کتنی بار آبا د اور ویران ہوتے دیکھا، یہ تو پتہ نہیں البتہ یہاں
کے کھنڈرات اور قدیم آثارات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ ست یگ سے آبادہے،نہیں
تواتنی بات یقینی ہے کہ مفروضہ کہانی مہا بھارت کے عہدسے قبل یعنی تقریباً تین
ہزار برس پہلے سے آبادی چلی آرہی ہیں،کیونکہ اس عہد کی اینٹیں جو کہ اسکوائر میں
ہوتی تھی،متعدد مقامات سے برآمد ہوئیں ہیں،بلکہ ایسی اینٹوں کی ایک مندر چھت
ندادردنہایت خستہ حالت میں کھڑی ابھی تک موجودہے،سیمانچل اور اس کے اطراف میں
مسلمان 1200ء ہی میں آبادہو گئے تھے،جیساکہ محمد قاسم فرشتہ نے لکھا ہے۔
بختیار لکھنوتی کے ساتھ ساتھ بنگالہ کے بہت سے
پرگنوں ر بھی قبضہ کرلیا،اس کے
علاوہ جاجنگر،بہار،دیوکوٹ اور بارسوئی میں
اپنے نام کا خطبہ وسکہ جاری کیا۔
انگریزی عہداقتدار سے قبل فوجداروں کے عہد میں
قدیم پورنیہ کے علاوہ مزیدموجودہ مغربی بنگال کے اضلاع مالدہ اور دیناج پور،مدھے
پورہ اور مونگیر کے کچھ کچھ حصے شامل تھے،اور اس سے قبل مذکورۃالصدر تمام اضلاع کے
علاوہ مزید کچھ ضلعے راج محل،پنڈوہ اور گوڑیا لکھنوتی کے بادشاہ اور نوابوں کے زیر
تحت رہا، یہ علاقہ صدیوں تک ولایت بنگالہ کا حصہ رہ چکا ہے،اور اب صوبہ بہارمیں
داخل ہے، انگریزوں کی آ مد سے قبل عموماً سیمانچل سمیت ولایت بنگالہ کے لوگوں کی
تعلیمی حالت قابل دیدنی تھی، چونکہ ہر چارسو لوگوں کی آبادی میں ایک اسکول یعنی
مدرسہ ہوا کرتا تھا،لہذا آبادی کے لحاظ سے پوری ولایت بنگالہ میں اسی ۰۸ ہزار مدرسے تھے، جنہیں
حکومت،سرکاروں اور زمینداروں کی سر پرستی حاصل تھی،یقیناً اس قدر مدارس کی موجودگی
اس بات پر دال ہے کہ اُس وقت واقعی لوگوں کی تعلیمی حالت آسمان ثریا کی بلندی
پرتھی،اورذہانت و فطانت کے انمول چشمے ابل رہے تھے۔اورمزید تین ہزار خانقاہیں سونے
پرسہاگہ،لہذا پورے ہندوستان کی طرح پوری ولایت بنگالہ بھی خانقاہوں کے زیر اثر
تھا،جہاں پر سے دنیاداروں کو خدا رسیدہ بنایا جاتا تھا خلوص و للہیت اور احترام
انسانیت کی تعلیم دی جاتی تھی،جھوٹ فریب سے نفرت اور ظلم و ستم کے خلاف آوازیں
اٹھائی جاتی تھی ِغرض ہندوستانیوں کی طبیعت میں مکاری و فریب کاری وغیرہ نہ
تھیں،سادہ مزاج تھے اور بڑی سادگی سے زندگی بسر کرتے تھے،لیکن انگریزوں نے آکر
ہندوستانیوں کی ذہانت و فطانت کے سر چشموں کو محوے خاک کر دیا،مکاتب و مدارس اور
خانقاہوں کے نام و نشان مٹا دئے،اورعموماً باشندہ گان ہند اور خصوصاً مسلمانوں کو
جہالت و ناخواندگی کی عمیق کھائی میں ڈھکیل دیا،جیسا کہ انگریز تجزیہ کار آنریبل
انفنسٹن اور آنریبل ایف وارڈن نے اعتراف کیاہے۔
انصاف یہ ہے کہ ہم نے ہندوستانیوں کی ذہانت کے
چشمے خشک کرائے،ہماری
فتوحات کی نوعیت ایسی ہے کہ اس نے نہ صرف ان
کی علمی ترقی اور ہمت افزائی
کے تمام ذرائع ختم کر دئیے،بلکہ حالت یہ ہے کہ
قوم کے اصل علوم بھی گم ہوجا نے
کا اندیشہ ہے۔
کسی بھی تعلیم یافتہ قوم پرتا دیر حکومت نہیں
کی جا سکتی،اسلئے ہندوستانیوں کو جہالت و ناخواندگی کی قعر مذلت میں ڈالنے کیلئے
مدارس کے نام ونشان مٹا دئیے،جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کی مذہبی تشخص بھی پائمال
ہو کر رہ گئے، مذہبی عبادات اور رسوم و قیود سب کچھ ذہنوں سے محو ہوگیا تھا،البتہ
صرف مسلمانوں کو مسلمان ہونا اور ہندوؤں کو ہندو ہونا یاد رہ گیا تھا،ایسے عالم
جہالت وناخواندگی میں انگریز نے دین نصاریٰ کیتبلیغ و اشاعت کیلئے یورپ سے پادریوں
کی جماعت بھی بلالی،اور ہوش مند ہندؤوں نے بھی چیتنیہ فرقہ کی تجدیدواحیا کی،اور مسلمان چکی کے دونوں پاٹوں کے بیچ پس کر
اس قدر ٹوٹ پھوٹ گئے کہ آج تک سنبھل نہیں سکے ان کی جہالت وپسماندگی اور دماغی
جمودو تعطل یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ جانوروں کو حلال کرنے کے لئے چند کلمات بھی
یاد نہیں ہوتے تھے،کوئی پیر،فقیر یاعالم دین کہیں سے آجاتے تو ان سے چھری پر ان
کلمات کا دم کرالیتے،جس سے برسہا برس تک جانوروں کو حلال کیا کرتے تھے۔
1757 سے
1900 صدی عیسوی تک کی مدت کم
لمبی نہیں ہو تی،اس عرصہ میں نسل کی نسلیں ناخواندگی کے عذاب میں غرق ہو گئیں تھیں
تب جا کر موجودہ سیمانچل کے خاص پورنیہ میں جناب الٰہی بخش صاحب مرحوم نے قطب
پورنیہ حضرت مولانا شاہ محمدخواجہ حفیظ الدین لطیفی برہانی قدس سرہ کے مقدس ہاتھوں سے ایک مدرسہ
بنام،،چشمہ رحمت،،قائم کیا،پھر خود قطب پورنیہ نے خانقاہ تکیہ رحمن پورمیں 1903 ءکوخانقاہ کے ساتھ ایک مدرسہ کی
بنیاد بھی ڈالی، اور ۴۲۳۱
ھ( ۳۰۹۱
)میں اور ایک مدرسہ شیتل پور مبارک پور تھانہ
چانچل موجودہ ضلع مالدہ مغربی بنگال میں ارباب دانش و بینش نے قائم کئے،اس کے
علاوہ بنگال و سیمانچل کی تاریخ میں اور کوئی قدیم مدارس نظر نہیں آتی۔
تقریباً چالیس پچاس برس تک کوئی ایک بھی مدرسہ
کہیں پر قائم نہیں ہوا،گویا کہ غیر منقسم بنگالہ کی تعلیم وتربیت کا بھار انہیں
تین مدارس پر تھیں،بعد ازیں ملک کی آزادی تک علاقے میں دوچار اور بھی مدرسے کا
اضافہ ہوا،اور ان میں سے ایک دارالعلوم لطیفی کٹیہار بھی ہے،جہاں سے راہ پا
کرسیمانچل و مغربی بنگال میں وہابیت کا ورودنامسعود ہوا۔
چنانچہ علاقائی کتب تواریخ وسیرسے یہ بات صاف
روشن ہے کہ۵ ۱ ۹۱ عیسوی کے آغاز تک جب کہ پورے ملک ہندوستان کے
ہر قصبہ وشہر میں وہابیت (غیرمقلدیت،دیوبندیت) کے جراثمہ پھیل چکے
تھے،مگرالحمداللہ یہ علاقہ محفوظ رہا، حضرت مولانا محمدخواجہ ساجد عالم مصباحی
لطیفی رحمن پوری اپنے جد امجد سراج السالکین قطب پورنیہ حضرت خواجہ شاہ حفیظ الدین
لطیفی برہانی علیہ الرحمہ کی سوانح حیات میں فرماتے ہیں،کہ اگر کہیں اکا دکا گمراہ
گر مولوی بھولے بھٹکے اپنے مذموم و مسموم اور باطل عقائد و افکار کی ترویج و اشاعت
کے لئے آجاتے تو ان کی سر کوبی کے لے ا ٓپ اپنے شاگردو ں کی فوج کے ساتھ ہمہ وقت
تیار رہتے تھے،اور واقع میں آپ کی وفات تک یہ علائق وہابیت،یا وہابیائی فرقوں کے
جرثومہ سے پاک وصاف رہے،اوران فرقوں کے جرثومہ اس وقت پھیلے جب قطب پورنیہ علیہ
الرحمہ۵۱۹۱
میں راہی
ملک بقا ہوگئے۔
وہابیت کے دخول کی قدر تفصیل یہ ہے کہ مولوی
عابد حسین چنڈی پوری جو کہ حضرت قطب پورنیہ کے شاگرد اور سلاسل مریدکے خلیفہ
تھے،اس نے اپنے پیر کے خواہش کی تکمیل کیلئے شہر کٹیہار میں ایک دارالعلوم ۸۳۹۱
میں قائم کیا، سات آٹھ برس تک یہ مدرسہ اپنے اسلاف کی روش پر قائم اور اپنے پیر کے
مسلک پر گامژن رہا،پھر اس کے بانی نے دارلعلوم کے دو مدرس،،مولانا امام الدین اور
مولانا عبدالرزاق،،کوعلم کی پختگی کیلئے دارالعلوم دیوبند بھیجے اور اس کی مالی
طور پر کفالت کی، اور فراغت کے بعد
ان دونوں کو اپنے دارالعلوم میں سابقہ مدرسی
کی خدمات پر بحال کر دیا،چند برس خاموش تبلیغ کی، یعنی دارالعلوم کٹیہارسے
طلبا کو دارالعلوم دیوبند میں دستار بندی
کیلئے منتقل کرنے لگے جب ان کی تعداد کچھ بڑھ گئی تو دونوں اعلانیہ دیوبندیت کا
پرچار کرنے لگے۔
دارالعلوم لطیفی کی بنیاد اہل سنت علما و عوام کے خون اور پسینہ کا ثمرہ ہے،اس کے
اسٹیج سے دیوبندی نما وہابی مذہب کی تبلیغ و اشاعت کیسے برداشت کی جا سکتی ہے،لہذا
اہل سنت کے علما و عوام نے پہلے اس کے
بانی سے ان دونوں مولویوں کو نکالنے کی فریادیں کی،رفتہ رفتہ یہ تحریک کی شکل
اختیار کرلی،کٹیہار سے لیکر پٹنہ پیر خانہ تک کے ارباب حل و عقد نے مولوی عابد
حسین کو خوب سمجھایا بجھایا،مگر سب لا حاصل رہا مولوی عابد کی ضد کے آگے کسی کی
ایک نہ چلی،علما و عوام نے صرف فریاد پر
اکتفا نہیں کیا بلکہ ان سے متعدد بار مناظرہ و مباحثہ بھی کئے لیکن مولوی عابد
حسین اپنے پیر حضرت قطب پورنیہ کے مسلک سے منحرف ہونا گوارہ کیا مگر دو دیوبندی
فاضل کو اپنے دارالعلوم کی چاکری سے برطرف کرنا مناسب نہ سمجھا،آخر نتیجہ وہی
برآمد ہوا،سیمانچل اور اس کے اطراف میں نو آموز نوآبادیاتی وہابیائی فرقے دیوبندیت
اور مصدر دیوبندیت یعنی غیر مقلدیت نے رفتہ رفتہ قدم جمالیا،جس کے واحد ذمہ دار
مولوی عابد حسین ہے۔
سیمانچل اور اس کے اطراف کے اضلاع مالدہ،دیناج
پور وغیرہ میں مسلمان ۰۰۲۱
ویں صدی میں آئے تھے،اس وقت سے لیکر شیر شاہ کے عہد تک تنہا اہل سنت کی اجارہ داری
رہی، پھر اہل تشیع آباد ہوئے،تب سے لیکر تقریباً ۰۴۹۱
تک مسلمانوں کا یہی دو فرقہ موجود رہا،پھر نجد عرب کی ملت شکن اور ایمان کش
انگریزی نوآبادیاتی فرقہ،،وہابی مذہب،،کے ذیلی فرقے دیوبندیت،غیر مقلدیت اور بعد
میں مودودیت بھی آئے،جس نے مسلمانوں کے ناک و نقشہ بگاڑ کر رکھ دئیے،ایمان کی
حلاوتیں اور لذتیں بدل کر رکھ دی،گھر گھر میدان جنگ بن کر رہ گیا۔ہندوستان میں
وہابیہ ابتداً براہ راست انگریز کے ٹکڑوں پر پل رہے تھے،اور اب یہودیت بنام سعودیت کے رحم
وکرم پر گزراوقات کرتے ہیں،اوربدلے میں
وہابیت کی اشاعت وتبلیغ کرتے ہیں،لہذا اس طوفان بلا خیز سے وہی شخص بچ سکا جو اپنے
اسلاف کو حق پر تصور کرتا رہا،اور اسی کے راستے پر چلنے کو نجات اخروی کا سبب
جانتا رہا، وہابیہ کے ٹکڑوں میں پلنے کی بجاے دولت ایمان کو حرز جاں بناے ہوئے
رہا۔
غرض مدعا یہ ہے کہ سیمانچل اور اس کے اطراف
میں وہابیت کے اثرات نمایاں ہیں،دیوبندی وہابیوں نے حنفیت کی ردا اوڑھے اہل سنت کے
طبقہ احناف پر اپنا اثر ڈالا اور لوگوں کو دیوبندی وہابی بنایا،اور غیر مقلدوں نے
رفع یدین کے لفافہ میں بند ہوکر اہل سنت کے طبقہ شافعیہ کو اپنی گرفت میں لیا، اور
ان کو غیر مقلد وہابی بنایا۔دیوبندیت کے اثر کو دفع کرنے کے لے اہل سنت کے حنفی
طبقہ نے بکثرت مدارس قائم کئے،لیکن شافعیہ کی جانب سے غیر مقلدیت کے اثر ات دور
کرنے کی کسی نے ادنی کوشش بھی نہیں کی،اپنے نہ غیر،سیمانچل اوراس کے اطراف،مالدہ
بنگال،دیناج پور،میں شافعی المذ ہب مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد بستی ہیں،اور وہ
لوگ اپنے آپ کو شیر شاہ وادی کہلاتے ہیں، شیر شاہ وادی مسلمانوں کے ماضی کی تاریخ
نہایت تابناک رہی ہے،یہ وہ قوم ہے جوصدیوں پہلے ہندوستان کے انتہائی علاقہ
افغانستان و خراسان کے درمیان کوہ سلیمان میں آباد تھی، مورخ ہند محمد قاسم فرشتہ
لکھتے ہیں۔
افغانیوں کو اہل ہند پٹھان کہتے ہیں،اس کی وجہ
تسمیہ معلوم نہ ہو سکی،لیکن خیال
یہ ہے کہ اسلامی بادشاہوں کے عہد میں جب پہلی
بار یہ قوم ہندوستان میں آئی
تو پٹنے (پٹنہ) میں آباد ہوئی اس لئے اہل ہند
ان کو پٹھان کہنے لگے۔
چنانچہ اسی قبیلہ کی ایک شاخ آگے چل کرشیر شاہ
وادی کہلائی،جس کا آغاز مشہور بادشاہ ہند شیر شاہ سوری کے زمانے سے ہوا،یعنی شیر
شاہ سوری اپنے جن پٹھان برادریوں کو متحد کرکے تخت وتاج حاصل کیا تھا، انہیں لوگوں
نے اپنے آپ کو شیر شاہ وادی کہلانا شروع کیا،اور آج ان کی تعداد کافی حد تک پہنچ
چکی ہے،اورکافی مقدار میں یہ لوگ سیمانچل اور اس کے اطراف مغربی بنگال کے اضلاع
مالدہ و دیناج پور وغیرہ علائق میں بسی ہوئی ہیں، یہ لوگ ابتدا ہی سے اہل سنت کے
دو نوں مذہب حنفی اور شافعی پر عمل پیرا تھے،دیگر مسلم برادریوں کی طرح یہ برادری
بھی وہابیت سے متاثر ہوئے،دیوبندیت اور غیرمقلدیت نے حنفیت اور شافعیت کا لبادہ
اوڑھ کر حنفی اور شافعی اہل سنت کو اپنے اثر میں لیا،پہلے پہل اپنی وہابیت سے تکیہ
کرکے ان کی مساجد پر امامت کئے،اور ان کو رفتہ رفتہ غیر مقلدیت بنام وہابیت کی
گہری کھائی میں ڈھکیل دیا، اسلئے،اور انہیں پھسانا آسان ہوا کہ وہابیوں کے ظاہری
اعمال اور اہل سنت شافعیہ وحنفیہ کے اعمال قدر مشترک ہیں۔ جنہیں دیکھ کر یہ برادری
بھی ان کے ادرش جال میں پھنس گئے،اور ایمان واسلام کا جنازہ نکال لیا،احناف شیر
شاہ وادیوں میں مذہبی بیداری توآگئی ہے،اوردیوبندیت کے مقابلے میں مدارس کے جال
بھی بچھا دئے ہیں لیکن شافعیہ کو،،وہابی غیرمقلد،، سمجھ کر ہم نے ان سے قطع تعلق
کر لیا،جس کے نتیجہ میں وہابیہ غیرمقلدین کو میدان صاف ملا،اور بچے کھچے شافعیہ کو
بھی وہابی بنانے لگ گئے،لیکن آج بھی ان میں
ایمان ویقین کی پیاسی روحیں مضطرب ہیں،اور وہابیت کے ایمان شکن عقائد
وافکار کے ظلم سے تڑپ رہی ہیں،اس سماج کے چند عمر رسیدہ بزرگوں کوجنہیں میں جانتا
تک نہیں،ایک مختصر سفر کے دوران ملاقات ہوئی تھی،جس میں انہوں نے اپنے دل کے احوال
کھول کر رکھ دئے،اور میں نے بھی ان کے سماج کا مطالعہ کیا تو اس بزرگ کی باتوں کی
تصدیق ہوگئی کہ پہلے ان کا مذہب کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہے،پہلے کیسی ایمان کی
باد بہاری چل رہی تھی اور اب کیسی مسموم و صر صر وہابیت کی باد خزاں چل رہی
ہے،پہلے میلاد و قیام، نذرونیاز،عرس بزرگان دین،سبھی معمولات اہل سنت پر عمل کیا
جاتا تھا،مگراب انھیں شرک و بدعت کہہ کروہابی علما نے بند کروادیا، ایک بزرگ بڑے افسوس سے کہنے
لگے کہ پہلے ہم لوگ شافعی تھے،مگر اب ہمارے مولاناؤں نے شافعیت کا نام لینا شرک
قرار دیا ہے،اور اس کی بجائے،،سلفی،،کہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
تعجب ہے کہ غیر مقلدوں نے امام شافعی کی تقلید
کوشرک قرار دیا،اگر نسبت ہی کی وجہ سے شافعی اور حنفی مسلمان مشرک ہیں،تو پھر
غیرمقلدین اپنے آپ کو،سلفی، کہلاکر شرک کی تہمت سے کیسے بچ سکتے ہیں،بلکہ اس سے
بھی بڑھ کر غیر مقلدین مشرک ہوئے،چونکہ ائمہ اربعہ کے مقلدین ایک ایک امام کے دامن
سے وابستہ ہے، اور الزام یہ ہے کہ مقلدوں نے اماموں کو خدا بنا لیا ہے۔ اگر یہی
بات ہے توغیر مقلدین بے انتہا لوگوں کو امام تسلیم کرتے ہیں،کیونکہ لفظ،،سلفی،،اسی
بات پر دلالت کرتی ہے،اور ان کی ہرباتوں پرآمنّاصدقناکہتے ہیں ان کی اقتدا کرتے
ہیں،لہذا اس قرینہ سے غیر مقلدین نے بے انتہا اماموں کوخدابنالیا،کیونکہ جو قرینہ
وہاں موجود ہے وہی قرینہ یہاں پر بھی دامن گیر ہے۔اللہ تعالیٰ غیر مقلدین کوعقل
اور ہدایت نصیب
کرے۔
خیر میں عرض یہ کرنا چاہتاہوں کہ شیر شاہ وادی
شافعی مسلمانوں کی گھر واپسی کیسے ممکن ہے،اور ان کے درمیان سے وہابیت کے اثرات
کیسے زائل کئے سکتے ہیں، ناچیزکے گوشہ ذہن میں ایک خیال پرورش پا رہا ہے،جس کا ذکر
احقر نے ان میں سے چند علمائے کرام کے سامنے کیا جوالثقافۃالسنیہ کیرلہ کی تنظیم
سے جڑے ہوئے ہیں،اور ان علائق میں جگہ جگہ مساجدومدارس کے قیام کا انتظام کرتے ہیں،یہ
دین کی ایک بہترین خدمت ہے،ان سے عرض کیا کہ زندہ دل شافعی حضرات جو کہ ابھی تک
وہابیت کی دلدل میں پھنسے نہیں ہیں،اپنے بچوں کو اہل سنت والجماعت(بریلوی)کے مدارس
میں تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ہیں،ان کا کوئی رہبر و رہنما نہیں ہے،کوئی پرسان حال
نہیں ہے،البتہ غیر مقلدعلما جو کچھ انہیں
بتلاتے ہیں شافعیت کے نام پر اسی طرح عمل کرتے ہیں،لہذا ان علائق میں جس جا پربھی
شافعی المذہب مسلمان وہابیہ غیرمقلدین کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں،ان کے درمیان
مساجد و مکاتب قائم کئے جائیں، ان میں شافعی المذہب امام ومدرس ہی متعین کئے
جائیں،چونکہ اس علاقہ میں شافعی المذہب مسلمان تو ہیں مگر ان میں شافعی علما کی نہایت ہی قلت ہے،
اس لئے ابتداً ً کیرل یا جہاں پر سے بھی
ہوشافعی المذہب علما وائمہ کی خدمات حاصل
کئے جائیں،یہ کا م اگر چہ نہایت ہی جاں گداز اور صبر آزما ہے،لیکن بفضلہ تعالیٰ امید
ہے کہ جس طرح خربوزہ کو دیکھکر خربوزے رنگ پکڑتے ہیں،اسی طرح ایک نہ ایک دن ضرور
محنت تبلیغ رنگ لائے گی،اور جنہیں اپنے شافعی ہونے کا احساس ہے وہ لامذہبی بننے سے
بچ جائین گے، ایک گاؤں میں سب نہیں تو کم از کم مذبذب حضرات ہی سہی راہ راست پر
ضرور آئین گے۔
میرے اس خیال کی بھر پورتائید کی،لیکن اپنی
مجبوری یہ بتائی کہ یہ تنظیم وہابی علاقوں کے لئے نہیں ہے،اور نہ ہی اس بستی کیلئے
ہے جہاں پر سنیوں کے درمیان چند وہابی بھی بستے ہوں،یہ سن کرحد درجہ دل ملول
ہوا،کہ اس قدر بیجا شدت سے سنیت کوکوئی قابل قدر فائدہ پہچنے والا نہیں ہے،بلکہ
وہابیوں کے درمیان آباد چند غریب سنیوں کو بھینٹ چڑھانا ہوا۔واقعی اگر یہی بات ہے
توان کے نزدیک ارشادوتبلیغ کی راہیں مسدود ہیں،ایجینٹ حضرات سے میری التماس ہے کہ
تنظیم کے اعلی عہدے داروں سے رابطہ کرکے اس بیجا لایحہ عمل کی جانب ان کی توجہ
مبذول کرائیں،اور حکمت بھرے مبلغانہ اصول کے تحت شافعی بھائیوں کے گھر واپسی کیلئے
عملی اقدام اٹھائیں،تاکہ ہمارے سنی بھائی ہم سے الگ نہ ہونے پائیں۔
حافظ محمد ساجد رضا قادری رضوی
مدرس شعبہ حفظ و قرات
مدرسہ جامعہ نظامیہ مہاراج پور تھانہ پوکھریہ
ضلع مالدہ بنگال
موبائل نمبر 7970960753
82/10/2016
Comments
Post a Comment