فاضل بریلوی کے قلمی جہاد کی باطل پر اثرانگیزیاں

 

 

 



فاضل بریلوی کے قلمی جہاد

کی

باطل پر اثرانگیزیاں

 

از

محمدساجدرضاقادری رضوی کٹیہاری

 

 

 

 

 

 

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ            الصلوٰۃ والسلام علیک یا نبی اللہ

ہندوستان کی سرزمین میں آج تک لاکھوں کروڑوں اہل قلم ومصنفین پیدا ہوئے،سب کا اپنا اپنا حلقہ اثر تھا اور ہے،لیکن ایسے معدودے چند ہی اہل قلم ہوئے جن کی اثر انگیزیاں عالمی پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں،انہیں میں سے ایک مجدد ملت،سراپا کنز کرامت،امام اہل سنت،الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی پر تاثیر شخصیت بھی ہیں،آپ علم و عمل کی دنیا میں تعارف کا محتاج نہیں،ہر اسلامی مذہب و مسلک میں علمی قابلیت کے لحاظ سے یکساں مشہور ہیں، اور فی الوقت ہندوستان میں اسی ۰۸٪فی صدمسلمان آپ کے عقیدت مند ہیں،لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت کا داعیہ پیدا کرنے کے لئے کسی نے جماعت بنا کر نگر نگر گشت نہیں کی،بلکہ یہ فضل وشہرت آپ کو خداتعالیٰ نے عطا فرمائی تھی،ایک حدیث کا مضمون کچھ اس طرح ہے،کہ جو بندہ فنافی اللہ ہو جاتاہے اللہ تعالیٰ اس بندے کی محبت زمین وآسمان والوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔لہذا اسی انعام ربانی کے نتیجہ میں دنیا بھر کے مسلمان آپ سے عقیدت رکھتے ہیں۔

اور ۰۲٪بیس فیصدآپ سے عقیدت نہیں رکھتے،اور یہ بالکل قانون فطرت کے مطابق ہے،ظاہر ہے کوئی بھی ایک انسان ہر انسان کے لئے اچھا نہیں ہو سکتا،جب کہ انبیائے کرام علیہم السلام جیسے محبوبان خدا طاغوتوں کی مخالفت سے نہیں بچے،یہ تو پھر ایک نبی کی امت کا ایک مجدد ہے،باطل قوتوں کی ہرزہ سرائی سے کیسے بچ سکتے تھے،جب کہ آپ نے ان کے باطل مزعومات کی کھلّی اڑادی تھی،چنانچہ آپ کی مخالفت تمام باطل افکارونظریات کے حامل خصوصاً انگریزی نوآبادیاتی فرقے مز خرفے یعنی وہابی اور ان کے شکم سے پیداہوئے فرقوں سے ہیں۔

نوزائدہ فرقوں کی پیدائش و افزائش

فتح دہلی ۳۰۸۱ء؁ کے چند برس بعد تک ہندوستان جنت نشان کی سر زمین میں مسلمان صرف دو فرقوں،اہل سنت وجماعت اوراہل تشیع،میں بٹے ہوئے تھے،سنی علماء وعوام کی مذہبی وملی یگانگت واتحاد سے انگریز نہایت خوفزدہ تھے،کہ ایک فاتح قوم مغلوب ہونے کے بعد تادیر خاموش بیٹھے نہیں رہ سکتی،اس لئے ان کی مذہبی یگانگت اور ملی وحدت کے درمیان انتشاروخلفشار اور تشتت ولامرکزیت برپاکرنے کے لئے نجد عرب کے ملت شکن اور ایمان کش انگریزی نوآبادیاتی  فرقہ،،وہابی مذہب،،کو لایا،تاکہ،، لڑاؤ اور حکومت کرو،، کی پالیسی پر عمل کرکے حکومت کومضبوط اور پائدار بنایا جاسکے،لہذاتوقع کے مطابق ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ نے وہبیائی فرقوں سے خوب خوب فائدہ اٹھایا،اور بدلے میں گورنمنٹ بھی ان پر نوازشات کی برسات کرتی رہی۔

چنانچہ انگریز نے وہابیت کی باگڈور سید احمد رائے بریلوی اور مولوی اسمعیل دہلوی اور مولوی عبدالحئی بڈھانوی کے سپرد کی تھی،سید صاحب تو صرف ایک مہرہ تھا اسے علم ومعلوم سے ذراسابھی واسطہ نہ تھا،کاٹھ کے الّو کی طرح جس رخ پربٹھا دئیے،بیٹھے رہ گئے،یہاں پر جماعت کا باوا آدم تو مولوی اسمعیل ہی تھے،اس نے شیخ نجدی کی کتاب التوحید کا اردوزبان میں چربہ اتارا،اور اس کا نام،،تقویۃالایمان،،رکھا،اس کتاب کے نقض امن ہونے کا اعتراف خود مولوی اسمعیل کوہے،وہ جانتے تھے، کیا،بلکہ اسے لکھا ہی اسی لئے گیا تھا کہ ہندوستانی مسلمان ٹکڑوں میں بٹ جائے،اس لئے یقین کے کے ساتھ کہا تھا،کہ اس کتاب میں افراط وتفریط ہوگئی ہے،مثلاً موہوم شرک کو شرک اکبر لکھ دیا گیا ہے،ان وجوہ سے اندیشہ ہے کہ شورش ضرور ہوگی،گو شورش ہوگی مگر لڑبھڑ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے،بقول سرسید احمدخان بانیمسلم یونیورسٹی علیگڑھ تقویۃالایمان کو نقض امن کی خصوصیت کے باعث سب سے پہلے انگریزوں نے رائل اشیاٹک سوسائٹی بنگال سے چھپواکر ملک میں مفت تقسیم کیا۔چنانچہ جب یہ کتاب چھپ کر مسلمانوں کے ہاتھوں میں آئی تو ایک کہرام مچ گیا،اہل عشق وعرفان کے مئے کدے میں آگ لگ گئی،لہذا خاموش رہنابھی جان ایمان کی توہین ہی تھی،پھر عشق کے بندے کے سامنے بات بڑھے اور وہ خاموشی سے سر تسلیم خم کرلے،ایساکبھی ہوا ہے اور نہ ہوگا،پس ان ملت فروش علماء کی ہر باتوں کی نوٹس علمائے اہل سنت نے لی،نتیجہ میں دہلی کی جامع مسجد کا وہ مشہور مناظرہ،،جس میں سیداحمد،مولوی اسماعیل اور مولوی عبدالحئی وہابیت کی سرپرستی میں ایک طرف تھے،اور دہلی کے سارے علماء ولی اللہی سمیت دوسری طرف تھے،آراستہ کیا،اس میں کھلی شکست و ہزیمت کے بعد تقیہ کرکے وہابیت کی اشاعت سے دست کشی کا اعتراف کیاتھا،لیکن علماء نے دیکھا کہ ان کی توبہ توبہ نصوح نہ تھی،بلکہ تقیہ تھا،اس لئے ایمان کشی اور ملت شکنی کی چیرہ دستیوں سے بعض نہیں آئے،توعلمائے دہلی نے خودبزرگان ولی اللہی کی کتابوں،اقوال و آراء سے اسلئے اس کی تردید کی،کہ شاید راہ پر آجائے،لیکن ان کے دلوں میں گمرہی نقش کر چکی تھی،بجائے کم ہونے کہ مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی۔

غرض مصنف کی پیش گوئی کے مطابق ان کے حسب دلخواہ مسلمان آپس ہی میں دست وگریباں ہوگئے،پھررفتہ رفتہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی،اور نتیجہ میں فرقہ بندیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

شروع شروع میں اس ملت فروش ٹولی کا نام گورنمنٹ کے رجسٹر میں لفظ،،وہابی،،ہی درج تھا،لیکن یہ لوگ پہلے پہل اپنے کو محمدی،پھر سید احمد کی نسبت سے،احمدی،کہلائے،جب تک یہ نام مستعمل رہا، جماعت میں مقلد اور غیرمقلد دونوں بھائی چارگی سے رہے،لیکن آگے چل کر جن لوگوں نے ائمہ مجتہدین کی اتباع سے انکار کیاتھا، اپنے آپ کو،،غیرمقلد،،کہلاناشروع کیا،تووہابی جماعت دو فرقوں میں بٹ گئی،اورجوطبقہ تقلید کا قائل تھا، اپنی شناخت،،دیوبندیت،،کے نام سے بنائی۔

پھر آگے چل کر غیرمقلدوں نے اپنا چولہ بدلا، اور ۶۸۸۱ء میں مولانامحمدحسین بٹالوی نے گورنمنٹ کو اپنی جماعت کی سابقہ وفاداری اور آئندہ کی نمک حلالی کا واسطہ دیکر سرکاری دفاتروکاغذات سے لفظ،،وہابی کو،،اہل حدیث،،سے بدلوا لیا،یقین جانئے آج تک اس جماعت کو کسی نام پر قرار نہیں آیا،اہل حدیث نام کے بعدبھی کسی نے اپنے کو سلفی کہا،اور کسی نے،،جماعت مسلمین،،کا پرفریب نام رکھ لیا،اور آگے نہ جانے کیا کیا نام تبدیل کریں گے اس بابت پیش رفت کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

لہذا فرقہ غیرمقلدیت اور دیوبندیت فتنوں کی فیکٹری ہیں،جہاں پر فرقے ڈھلتے ہیں،، نیچریت،قادیانیت اور منکرحدیث،خاکسار اور احرار وغیرہ غیرمقلدیت کی فیکٹری سے ڈھل کر نکلا،اور دیوبندیت کے مادرشکم سے مودودیت اورتبلیغیت پیدا ہوئے،پھر ان سب فرقوں کی سنگم سے صلح کلیت بنام ندویت کا جنم ہوا۔

یہ سب فرقے مزخرفے اگر چہ نام کے لحاظ سے الگ الگ پلیٹ فارم پربٹے ہوئے ہیں مگر سب مشترکہ عقائد اور مقاصد رکھتے ہیں،چنانچہ ان فرقوں کی دھنگامشتی سے ہندوستان کی مذہبی و سیاسی سر زمین مکدر ہوچکی تھی،اور اپنی اپنی مکروہ واہیات کا پرچارکرنے کے لئے برساتی مینڈکوں کی طرح ٹرٹر کرکے آسمان کو سر پر اٹھا لیا تھا،ہندوستانی مسلمانوں کی وہ یکتائی اور وحدت جو چودہ سو برس تک مثالی طورپر قائم رہی تھی،وہابیت کے ان متعدد فرقوں کی مایہ جال نے چند برسوں میں پاش پاش کردیا،کوئی فرقہ الوہیت کی تقدس پر جھوٹ کا ناپاک پیوندکاری کررہا تھا،تو کوئی شان رسالت مآب  ﷺ کی اہانت کے درپے تھا،کوئی معیارحق و ہدایت صحابہ کرام کی شان میں گالیاں بک رہاتھا،توکوئی مجتہدین کرام واولیائے عظام بزرگان دین متین علیہم المغفرۃ والرحمن کو معاذاللہ بت اور ان کے ماننے والوں کو بت پرست قرار دے رہے تھے،کچھ بھی تو باقی نہیں تھا،جس کا انتساب ان مقدس ہستیوں کی طرف نہیں کیا تھا،لہذا ایسے دین بیزار ماحول کو پاکیزہ اور نفیس بنانے کے لئے کسی ایسی ہستی کی ضرورت تھی،جو اپنی خداداد طاقت سے ماحول کو عشق و ایمان کی خوشبوؤں سے معطر اور روح پرور بنادے،اور ان اسلام مخالف افکارونظریات کے پرخچے اڑاکرنام و نشان مٹادے،ان انگریزی نو آبادیات کی نوزائدہ فرقوں کو ان کے بلوں میں گھسا کر دم لے۔

قلمی جہاد کی اثر پذیریاں:جب سے یہ فرقے ہندوستان کی سرزمین پر حشرات الارض کی طرح وجود پذیر ہوئے،علمائے حق نے ان کے ردوابطال کے لئے پہلے ہی دن سے قلم کی تلوار سنبھال لئے تھے،اور اپنی اپنی تقاریر و تحریرات،تصنیفات و تالیفات سے اپنے اپنے حلقوں کو وہابیت کی وبا سے مامون ومحفوظ کیا تھا،لیکن ان کے حلقہ اثر محدود تھا،مگر جب امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ کا سیال قلم برق تپاں بن کرانگڑائیاں لیں،اورجس طرف بھی عنان قلم کے رخ کو موڑدیا، باطل کی دیوارمزعومات اور

مفسد ین کے رنگ محل کوخاک نشیں کرتے ہوئے گزر گئے،خود فرماتے ہیں۔        جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں

یہ آپ ہی کے زور بازو اوربرق خاطف نوک قلم کی مار ہے کہ آج تک عدواللہ عزوجل اور عدورسول اللہ ﷺکے سینے میں غار ہے،اور یہ وار ایسا وار تھا کہ باطل کے دلوجگر کے آر پار ہے،جس سے آج تک ان کے سینے سے تازہ خون رس رہا ہے،اور آج تک خانہ باطل میں صف ماتم بچھا ہوا ہے آپ نے دین اسلام کی صرف دفاع ہی نہیں کی بلکہ کاری ضرب سے مضروب بھی کرچکے ہیں،اس لئے اس عاجز و بے بس بڑھیا کی طرح بین اورمرثیہ خوانی کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرکے اپنی درماندگی بتانے لگے ہیں،کہ دیکھو صاحب ہم تو اصلاح کرنے آئے تھے،ہمیں ہی گمراہ وباطل پرست قراردے دیا،ہم تو باب نبوت کے بند دروازے کو کھول کر نبی  ﷺ کی فضیلت اور شان بڑھا رہے تھے ہمیں ہی منکر ختم نبوت قرار دے کر کافر کہہ دیا،ہم تو سچی بات بتا کرخداکی شان بیان کررہے تھے،ہمیں ہی انبیاء علیہم السلام کے گستاخ اور بے ادب قرار دے دیا۔

شروع شروع میں ان کے بین سن کر دوچار بے وقوف قسم کے ناخواندہ انسان ضرور ان کی جماعت میں شامل ہوکر شریک غم ہوئے،لیکن ان کے بین اور ماتم کی حقیقت عقلمندوں پر آشکار ا تھی،کان نہ دیا،اور اہل سنت وجماعت ہی میں استقلال سے جمے رہے۔

مجدد کی غامض نظر:غرض وہابیت جس روپ رنگ میں بھیس بدل کر آیاآپ نے اسے پہچان لیا،وہابیت غیرمقلدیت کا نقاب ڈال کر آیا،اس کی سرکوبی کی،وہابیت نیچریت کی شکل میں آیااسے انجام تک پہنچایا،وہابیت قادیانیت کے لبادے میں آیا اس کی گوشمالی کی،وہابیت دیوبندیت کے پردے میں نمودار ہوااسکی ہوا نکال دی۔

آپ کی مجددانہ نظر کس قدر عقابی تھی،اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے یہی ایک واقعہ کافی ہوگا،کہ جب حنفی نماوہابیہ نے،،دیوبندیت،،کانقاب ڈال کرآیا،اور اپنی فطرت سے مجبور ہو کر بارگاہ رسالت کے تقدس کو پامال کرنے لگا تودیوبندیت کی عناصر اربعہ مولوی رشیداحمد گنگوہی،مولوی قاسم نانوتوی،مولوی خلیل احمد انبٹھوی اور مولوی اشرفعلی تھانوی پر حرمین شریفین کی برہنہ شمشیربرسائی،اور ان کے کفر وایمان کا فیصلہ کر دیا،ساتھ ہی انہیں ان کے اصل نام،،وہابیت،،سے یاد کیا تو ساری دیوبندیت غول بیابانی کی طرح چیخ اٹھی،دیکھئے حسام الحرمین کے جواب میں اس غول بیابانی کی کتاب،،المہند،،اور،،تہمت وہابیت اور علمائے دیوبند،،کس طرح حاشاو کلا کہہ کہکر اپنی وہابیت کا انکار کر رہا ہے،صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اول الذکر کتاب وہابیت کے انکار میں ۴۲ پیشوایان دیوبند نے دستخط بھی کئے،اور حسام الحرمین کو غلط ثابت کرنے کے لئے عرب وعجم میں ڈنکا بجا دی بلکہ ان سے اپنی مظلومیت کی سرٹیفکٹ بھی حاصل کر لیا، لیکن ابھی یہ شور شرانگیز پوری طرح فضا میں تحلیل بھی نہ ہونے پا یاتھا کہ اسی غول بیابانی کی جماعت سے ایک بھونڈرمولوی منظورسنبھلی کی شکل میں ظاہر ہوا،اس نے،،المہند،،معروف بہ،،التصدیقات لدفع تلبیسات،،کے سحر کو دفع کردیا،نہیں بلکہ اس غول بیابانی کے سربرآوردہ علماء کی التلبیسات کی تصدیق کردی،اور ان کی وہابیت کو طشت از بام کردیا،اس کے ثبوت کے لئے دیکھئے،،شیخ محمد بن عبدالوہاب اورہندوستان کے علمائے حق،، کھلے لفظوں میں یوں کہ لیجئے کہ مولانا منظور سنبھلی نے اپنی جماعت کی وہابیت ثابت کر کے حسام الحرمین کے حقیقت بر مبنی الزام کی تصدیق کردی،یہ مجددانہ نظر کی کرامت نہیں تو اور کیا ہے،بلکہ یہ آیت من آیت اللہ اور معجزات من معجزات رسول اللہ کا جلوہ ہی تو تھا،کہ پردے کے پیچھے چھپی وہابیت کے اقرار سے پیش تر ہی پیش گوئی فرمادی تھی۔

غرض آپ نے دشمنان اللہ عزوجل ا ورسول اکرم  ﷺکو ہر میدان میں شکست دے کرچاروں خانے چت کیا،اور ان کی ہر گمراہی کو آشکارا کر دیا،اور ان کے مقابلہ کے لئے ہتھیار کا ذخیرہ چودہ سوکے قریب تصنیفات و تالیفات کی شکل میں چھوڑے،اس لئے غول بیابانی کی طرح

وہابیت کے تمام فرقے ملت واحدہ کی شکل میں امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ پر چوطرفہ حملے کرکے ان کی ذات کو مجروح کرنے میں لگے ہوئے ہیں،جس کی منظر کشی کسی شاعر نے یوں کھینچی ہے۔

چاروں طرف ہے نجدی وہابی بیچ میں ہے میرا تنہا رضا

لہذاظاہر ہے کہ جب کسی کی ذات قابل التفات نہ رہے گی تو ان کی باتوں کی اثرات بھی زائل ہو جائے گی،باطل پرست کچھ اس انداز میں حملہ آور ہوئے ہیں،جسے دیکھ کر ایک عام قاری کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ آپ سے پہلے بھی علمائے دین متین نے اس بدبخت قوم وہابیت کی تردید کی تھی،ایک عرصہ تک میں بھی اس خام خیالی کا شکار تھا کہ ان وہابیوں کی تردید آپ سے قبل کسی نے نہیں کی،اور یہ اس لئے محسوس ہوتا تھا کہ وہابیہ قو م الایعقلون ان سے ماقبل علما ء کے نام ہی نہیں لیتے ہیں،سب کو بھلا کر فاضل بریلوی کے پیچھے نہا دھوکر پڑے ہوئے ہیں،اور یہ اس لئے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آپ ایمانی صداوترجمان بن کر ابھرے تھے،اور آپ ہی کے نام پر اتفاق اوراتحادکی لڑی میں پیرو گئے تھے،اس لئے سارا غصہ کسی اور پر اتارنے کی بجائے بریلی کے اس نقیب وترجمان پر اتاررہے ہیں،اورتمام بدعات وخرافات کے موجد تو خود ہیں،لیکن ان خرافات کا ساراٹھیکرا بھی آپ ہی کے نام منسوب کرتے ہیں،تاکہ جس طرح بھی ہو آپ کیشہرت اور اثرپذیری کا خاتمہ ہوجائے،مگر کسی کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے،وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے،اور آخر میں جاتے ہوئے مودودی جماعت کے ایک جید عالم اور اسکالرمولانا منظورالحق کامٹی کااعتراف حق دیدۂ عبرت کے لئے نگاہ بصیرت فرمالیجئے۔

اس وقت اہل سنت وجماعت،(بریلوی گروپ)نہایت جوش کے ساتھ والہانہ طور پر امام احمد رضا خان بریلوی کے عرس مبارک کے موقع پر اپنی عقیدت مندیوں کا اظہار کر رہے ہیں،جس کا انہیں حق ہے،امام احمد رضا خان صاحب حقیقۃًاپنے وقت کے ایک جید عالم اور جملہ علوم اسلامی پر عبقری کی حیثیت رکھتے تھے،جو روز روشن کی طرح عیاں اور ظاہرو باہر بات ہے۔

یہ بات بھی عام انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ جو شخص اپنی جگہ جس قدر بڑا اور اہم حیثیت و مقام کا حامل ہوتا ہے،اس کی مخالفت بھی اتنی زیادہ اور شدید ہی ہوتی ہے،یہی بات ہمیں امام موصوف کے تعلق سے بھی نظر آتی ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ کے متعلق یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ دنیائے اسلام میں اتنی مخالفت کبھی کسی کی نہ ہوئی جتنی کہ امام صاحب کی ہوئی،مگر آج وہی امام ابوحنیفہ تین چوتھائی دنیا ئے اسلام کے امام نظر آتے ہیں۔

یہی بات ہمیں امام وقت حضرت بریلوی میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ لاکھ مخالفتوں کے طوفان اٹھے،لاکھ بدنامیوں اور مذمتوں کی آندھیاں چلائی گئیں مگر سب بے کار۔یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں۔سب ٹکرانے والوں کے سر خود ہی پھوٹ کر رہ گئے۔وجہ۔۔۔صرف حسد کی آندھی تھی اس لئے اسلامی دنیا میں کوئی اثر قائم نہ کرتے ہوئے گزرگئی۔آج مطلع صاف ہورہا ہے،امام موصوف کی تعلیمات کو عام کیا جا رہا ہے،ان کے بعض عقیدت مند وں نے ان کا بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ ان کی تعلیمات،ان کے فتاوے،دین حق کے مختلف موضوعات پر ان کی توضیحات وتشریحات کو محض کاغذ کا پلندہ بنا رکھا نہیں رہنے دیا جائے گا،بلکہ عوامی سطح پران کی وسیع پیمانے پر اشاعت کرکے عوام کو حق سے آگاہ کیا جائے گا،۔۔۔۔۔۔۔۔مخالفین کی اڑائی ہوئی گرد جس نے لوگوں کی نظروں پر موصوف کے خلاف پردہ ڈال رکھا ہے چھٹتی ہے،اور لوگ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ کیا یہ وہی امام احمدرضا ہیں جن کے خلاف ایک محاذ قائم ہے۔

مخافت کی حقیقت اسی وقت کھلتی ہے جب ہم امام موصوف کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو پہلے کی نسبت آج زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر مخالفت محض گروہی عصبیت،معاصرانہ بغض وحسداور جھنجھلاہٹ کے سوا کچھ نہیں ہے،۔۔۔۔جب ہم امام موصوف کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنی علمی فضیلت اور اپنی عبقریتکی وجہ سے دوسرے علماء پر اکیلا ہی بھاری تھا،اور یہی ایک بات (یعنی وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہیں)دوسروں کو گراں گزرتی ہے جس کی وجہ سے تلملا کربے جا مخالفت پر اتر آتے ہیں۔        ماہنامہ پیغام رضا اجین،اپریل ۹۸۹۱ء؁ ص ۰۲

 

نتیجہ فکر:محمدساجدرضاقادری رضوی

خادم شعبہ حفظ و قرأت

جامعہ نظامیہ مقام وپوسٹ مہاراج پور تھانہ پوکھریاضلع مالدہ مغربی بنگال

Comments

Popular posts from this blog

भारतीय मुसलमानों की पस्ती का एकमात्र हल — मुस्लिम क़ियादत (नेतृत्व

حالات ‏حاضرہ