سیروسوانح sair o sawaneh
فخرآبادپورحضرت مولاناشمیم القادری صاحب
نام ونسب :
مولاناشمیم القادری ابن مولانامحمد کلیم الدین ابن نظرالحق عرف {وجوامنڈل }ابن شفیع الحق منڈل۔
خاندانی پس منظر:
مولانا شمیم القادری کے والد حضرت مولاناکلیم الدین ایک صاحب علم شخص تھے۔درمیانہ گھرانہ تھا۔لیکن خاندانی سلسلہ میں کوٸی تعلیم وتربیت سے آشنانہ تھا۔جہالت کی حکمرانی تھی۔لیکن گاٶں میں عزت کی نگاہوں سے دیکھاجاتاتھا۔کیونکہ جناب نظرالحق عرف وجواصاحب گاٶں کے ۔۔منڈل ۔۔تھے۔ان کاباپ بھی منڈل تھا۔اور اس زمانے میں منڈل کی حیثیت کیاتھی ۔اور ان کی عزت واحترام کس قدر ہوتی تھی۔چالیس پچاس سال کی عمر کے لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔
تاریخ پیدائش:
یہ توسبھی کومعلوم ہے کہ گاٶں دیہات میں آج کی طرح تاریخ پیداٸش محفوظ کرنےکا رواج نہیں تھا۔اس لۓ جوکچھ اسکول ومدارس میں جوتاریخ لکھی جاتی ہے ۔وہ ایک انومان اور یادداشت کے مطابق اندازے سے لکھ دیاجاتاتھا۔اس لۓ قدیم اشخاش کی یوم پیداٸش اور تاریخ کاصحیح طورپر پتہ لگاناممکن نہیں ہے۔لہذامولانا شمیم القادری کی پیداٸش اسی اندازے کے مطابق تقریباً 1960۔/61 ٕ میں ہوٸی تھی۔
تعلیمی سفرنامہ:
آپ نے ابتداٸی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت مولاناکلیم الدین چشتی صاحب سے حاصل کی۔پھرننیہال {پرمانک ٹولہ }میں رہ کر ناظرہ وغیرہ پڑھی۔رفقاۓ درس میں مفتی محمد لطیف الرحمن رضوی {پرمانک ٹولہ آبادپور}ہیں۔اورمبلغ اسلام ناشرمسلک اعلی حضرت مولانامسیح الرحمن رضوی کے رفیق درس ہم دم وہم نوالہ وپیالہ تھے۔آفتاب علم عظمت گڑھ ۔انوارالعلوم جین پور۔سکٹھی میں ساتھ ساتھ ہم مدرسہ رہے۔اس کےبعد فیض آبادالجامعة اسلامیہ روناہی کے مدرسے میں رہے ۔اوریہی سے پڑھ کر1988 ٕ میں فارغ بھی ہوۓ۔
اساتذہ کرام:
حضرت علامہ نعمان القادری صاحب بڑے قابل انسان تھے۔علمی دغدغہ رکھتے تھے۔آپ سے اپنی اولاد کی طرح محبت فرماتے تھے۔چونکہ آپ بہت ہی ذہین وفطین تھے۔اور یہ بات تومسلم ہے کہ جوشاگرد لکھنے پڑھنے ذہین ہو۔اورعلمی شوق رکھتے ہیں ۔اساتذہ اسے ازخود چاہنے لگتے ہیں۔لہذاآپ اساتذہ کے نوردیدہ تھے۔بالخصوص حضرت علامہ نعمان القادری صاحب کے۔اور انہیں کی صحبت کیمیااثرسے آپ بھی علم ومعلوم کے خالص جوہر بن گۓ۔
بیعت وارادت:
حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے شرف بیعت وارادت رکھتے تھے۔
دینی خدمات:
آپ بعد فراغت چاپڑی ٹولہ آسنسول میں بزم تدریس سجاٸی۔جہاں پر رابعہ تک تعلیم وتعلم کا انتظام تھا۔چندبرس رہنے کے بعد علم ومعلوم سے تاریک وطن کی جانب توجہ دی۔اور آسنسول سے گھرپرآگۓ۔اپ کے رفیق درس مبلغ اسلام ناشرمسلک اعلی حضرت مولانامسیح الرحمن رضوی دامت برکاتھم بھی پنجاب کی سرزمین سے وطن میں آۓ ہوۓ تھے۔حضرت مولاناعلی اکبر رضوی دام ظلھم بھی بعدفراغت گھرہی میں رہ رہے تھے۔ان سب کی ہم نواٸی وہمرہی کےساتھ علاقہ میں ایک علم کی قندیل بشکل دارالعلوم جلانے کے لۓ پابہ رکاب ہوۓ۔
دارالعلوم کے لۓ جگہ کی تلاشی:
علاقہ چونکہ نہایت ہی غربت وفلاکت زدہ ہے۔مفلسی کے ساتھ ساتھ دینی علمی اعتبارسے بھی جہالت حدسے فزوں تر تھی۔امرا ٕ بھی تھے مگر انہیں انگلیوں میں شمار کرسکتے تھے۔ایسی صورت حال میں ایک ادارہ کے لۓ زمین کون دیتے۔
لھذاان علماۓ محرکین نےایک مختصر بیٹھک میں طۓ کیا کہ محلہ جگناتھ پورمیں اگرچہ جگہ کم ہے۔لیکن ایک حال روم بناہواہے۔اور سامنے بہت بڑاتالاب بھی ہے۔بروقت مدرسے کاافتتاح یہی سے کردیاجاۓ۔لھذااس خیال کو گوشہ ذہن سے زمین اتارنےکے لۓ روبعمل ہوۓ۔لیکن اس پر عمل آوری اہالیان جگناتھ کے سربرآوردہ لوگوں کی اجازت کے بغیرممکن نہ تھا۔ اجازت طلبی کی خاطران سے ملاقات بھی کی ۔مگراجازت نہ ملنی تھی نہیں ملی ۔مگرمایوس نہیں ہوۓ ۔یہ لوگ مایوس بھی کیسے ہوسکتےتھے جودوسروں کو ۔۔لاتقنطوا من رحمة اللہ ۔۔کادرس دینے والے تھے۔پس پھر طۓ ہواکہ بیلواکےجس مقام پراب پھوٹ بال اسٹیڈیم بناہے۔وہ سرکاری زمین خالی پڑی ہوٸی ہے۔وہیں پر مدرسے کی داغ بیل ڈال دی جاۓ۔مگر اس وقت کی سوچ کے مطابق کہ ایک دینی مدرسہ کوسرکاری زمین پر بنانامناسب نہیں ہے۔اس خیال سے وہ زمین بھی ہاتھ سے گٸ۔
پھرطۓ ہواکہ گرام پنچایت بھون کے سامنے الحاج سہراب الدین صاحب کی زمین خالی پڑی ہے۔ان سے استدعا کی جاۓ توشاید کام بن جاۓ ۔
تینوں علما ٕ لگوامیں الحاج سہراب الدین صاحب کے دردولت پر حاضر ہوۓ۔مدعا پیش کیا۔کچھ بھی پس وپیش کۓ بغیر زمین دینے کوراضی ہوگۓ۔تینوں علماۓ محرکین کی یہ حسن ظن درست ثابت ہوٸ۔
دارالعلوم کاقیام :
ابھی جس مقام پر دارالعلوم قاٸم ہے۔اس زمانے میں ساراعلاقہ جنگل جھاڑی سے بھرا پڑا تھا۔بیلواجوقدیم مارکیٹ ہے۔یہاں پر صرف ایک چاۓ کی دکان تھی۔جوصبح کھلتی۔اور شام ہونے سے قبل بند ہوجاتی تھی۔بعدعصر ادھر سے لوگ گزرتے ہوۓ۔گھبراتے تھے۔ہرطرف ہوکاعالم طاری تھا۔چندقدم کے فاصلے پر برگد کے نیچے قدیم زمانے کی مورتیاں خستہ حالت میں ادھرادھر ٹوٹی ہوٸ بکھری پڑی تھی۔ایک ڈراٶنہ ماحول تھا۔
لیکن اللہ کے ان نیک بندوں نے باس بتی سے جھوپڑی ٹانگ کر علم دین کی قندیل بنام مدرسہ غوثیہ سفیلیہ مظہراسلام 25/مٸی 1991 میں سنگ بنیاد رکھ دی۔
پھربہت ہی کم مدت میں ترقی کازینہ طۓ کرنے لگا۔ ایک سال بشکل مکتب چلا۔دوسرے برس سے ہوسٹل کھول دیا۔اورقوم کے نونہالوں کومدرسے میں رکھنے کابقاٸدہ انتظام وانصرام کرلیا۔مگر دوبرس تک ان کے کھانے پینے کاسسٹم جاگیرکارھا۔تیسرے برس میں مدرسہ سے دارالعلوم کاسفر طۓ کرلیا۔جس میں قرآن وحدیث قال اللہ وقال الرسول کی کانوں میں مدھور رس گھولنے والی آواز گونجنے لگی۔حفظ وقرأت کے ساتھ ساتھ مولویت کی تعلیم بھی رابعہ تک ہونے لگی۔
بانیئن دارالعلوم :
حضرت علامہ مولانامحمدشمیم القادری صاحب کا سب سے بڑاکارنامہ بیلوا کی تاریخی سرزمین پر ایک تاریخ ساز دارالعلوم کاقاٸم کرناتھا۔لیکن یہ کام آپ نے تنہا انجام نہیں دیا۔البتہ اس کے سب سے پہلا محرک آپ ہی تھے۔آپ ہی نے سب سے پہلےاپنے رفقاۓ درس کے قلوب میں ایک عالی شان دارالعلوم کے خیال کا چراغ روشن کیاتھا۔لھذااس تاریخ ساز ادارےکا بانٸ اول آپ ہی تھے۔بانی دوم کی حیثیت سے مبلغ اسلام ناشرمسلک اعلی حضرت حضرت مولانامحمد مسیح الرحمن رضوی کانام آتاہے۔اورتیسرے نمبرپر حضرت مولاناالحاج محمد علی اکبررضوی کے نام آتے ہیں۔
بیلوا کی ترقی :
بیلواکے جنگل میں بشکل مدرسہ علوم وفنون کی قندیل کیاروشن ہوٸی۔ہرطرف روشنی بکھرگٸی۔اجالے ہی اجالے ہوگۓ۔آبادیاں سمیٹ سمٹاکر تھی۔ بڑھنے پھیلنےلگی۔محلہ سے گاٶں آبادہوگیا۔جس مقام پر صرف ایک دکان تھی ۔وہاں پر عالی شان صباحیہ ومساٸیہ بازار لگنے لگا۔کہاں دن کے چار4بجے لوگ گزرنے سے گھبراتے تھے۔اب دس 10 بجےشب تک چہل پہل رہنےلگی ہے۔یہ اسی مدرسہ کی برکت تھی جوظہور میں آٸی ۔یوں سمجھ لیجۓ کہ بیلواکی ترقی کی پہلی اینٹ بشکل مدرسہ پڑی۔پھرجیسے جیسے مدرسہ نے مکتب سے لیکردارالعلوم کاسفرطۓ کیا۔بالکل اسی طرح لگواپنچایت سے کٹ کرسن 2000 ٕ میں بیلوا ایک الگ پنچایت کی شکل اختیار کرلی۔2010 تا 2015 میں سات پنچایتوں کی سرکار بھون کے ساتھ ہسپیٹل اور پھوٹبال اسٹڈیم بھی بن گیاہے۔
لائبریری کاقیام :
آپ نے مدرسہ کے ساتھ ساتھ ایک لاٸبریری کابھی قیام عمل میں لایاتھا۔جس میں درسی اور غیردرسی کتب جمع تھی۔
انجمن رضاۓ مصطفےٰﷺ:
مدرسے میں ایک ہفتواری انجمن بھی طلباۓ دارالعلوم کے لۓ قاٸم کیا تھا۔جس میں آج بھی طلباۓ عظام اصلاح للسان کے ساتھ علمی ادبی سماجی طورطریق سیکھتے ہیں۔
تصنیف وتالیف:
آپ ایک قابل اورباصلاحیت وباعمل عالم دین تھے۔جوکہتے اسے کردیکھاتے۔آپ کے اندر تصنیف وتالیف کاملکہ وہنر تھا۔باوثوق ذراٸع سے معلوم ہواہے کہ آپ حضرت علامہ مفتی محمد طفیل احمد رضوی علیہ الرحمہ اور حضرت مفتی محمدظہورحسن رضوی سے تحریری طورپرعلمی مباحثہ کرتے رہتے تھے۔اور چند کتب ورساٸل بھی فقہی طورپرسوالیہ انداز میں ترتیب دے رہے تھے۔مگردارالعلوم میں ڈیڑھ برس درسی خدمات انجام دیکر آپ 1993 ٕ میں کہاں چلےگۓ ۔آج تک کوٸی سراغ نہیں ملا۔
آپ کے جانے کے بعدآپ سے منسوب تمام آثاربھی مٹ گۓ۔ تلاش بسیار کے بعد آپ کےمضامین میں سے سواۓ ایک کہ کوٸی مضمون دستیاب نہیں ہوا۔سب ضاٸع ہوچکے ہیں ۔اور جوخطوط انہوں نے اپنے رفقاکے نام لکھے تھے۔وہ بھی کسی کے پاس محفوظ نہیں ہے۔
دارالعلوم کی عمارت:
بارسوئی اورآبادپور کی سرزمین میں یہ دارالعلوم ان چند بڑے اداروں میں شامل ہوتےہیں۔جنھیں انگلیوں میں گناجاتاہے۔
جس کی شروعات پھوش کے مکان سے ہوئی تھی۔آج زمانے کی رفتار کے ساتھ ترقی پذیرہے۔
الحَمْدُ ِلله تعالی زمین دارالعلوم کے نام سے وقف ہوچکی ہے۔اورسیہ طرفہ عمارت کھڑی ہوچکی ہیں۔بلکہ مین گیٹ کے سامنےنظرجیسے ہی آگے بڑھے گی۔آپ کو ایک عالی شان خوبصورت دومنزلہ عمارت دیکھنے کوملےگی۔داٸیں بجانب مشرق بارہ دری کی طرح لمبی ایک عمارت ہے۔یہی قدیم دارالاقامہ تھا۔اور اب بھی ہے۔باٸیں سمت نظرکیجۓ۔عمارت توہےمگراوپرٹین کاچھپڑڈالاہواہے۔یہ بطور درسگاہ اورنماز وغیرہ کے لۓ استعمال ہوتاہے۔
فقط
محمدساجدرضاقادری رضوی
بانی: تحریک فیضان فیضان لوح وقلم جگناتھ پور{بیلوا}آبادپور بارسوٸی کٹیہار بہار
موبائل نمبر 7970960753
Comments
Post a Comment