سیروسوانح
مبلغ اسلام ناشرمسلک اعلی حضرت۔ حضرت مولانامحمد مسیح الرحمن رضوی دامت برکاتہم
بیلواآبادپور کی سرزمین خصوصاً علمی ودینی خدمات و کارنامے کے اعتبارسے خشک تسلیم کی جاتی ہے۔لیکن سمجھنے والوں کویہ پتہ نہیں کہ مونگے اور موتیاں سیپ کے پیٹ میں ہی چھپاہواہوتاہے۔ایک ہےدین کی خدمت ۔دوسری ہے علمی خدمت۔یہ قطعہ دونوں اعتبار سے کنگال نہیں ہے۔اس سرزمین میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک درشہوار تشریف رکھتے ہیں۔آج ایسے ہی ایک دینی وعلمی شخصیت سے آپ کو متعارف کرانے جارہے ہیں۔جوخدمت دین وسنت کے اعتبارسےآفاقی حیثیت کے حامل ہیں۔
نام ونسب:
مولانامحمد مسیح الرحمن رضوی ابن محمد یونس علی مرحوم ابن دھن محمد مرحوم ابن مظفرعلی سرکارابن
غضنفرعلی سرکار۔۔۔۔
تاریخ پیدائش:
آپ جناب یونس علی مرحوم کے گھر میں آدھار کارڈ اور وٹرآٸی ڈی کے مطابق
01\01\1970میں پیداہوۓ۔
خاندانی پس منظر:
رکتہار آدھی بستی موضع بیلوا میں واقع ہے۔اور آدھی بستی موضع گوبند پورمیں ہے۔رکتہار کاقدیم نام سرکارٹولی تھا۔
اسی سرکار برادری سے آپ کاتعلق ہے۔اس خاندان کی ٹاٹھ باٹھ ہی کچھ اور تھی۔جیساکہ سرکاروں کاہوتاتھا۔اس خاندان کی تاریخ ذرا لمبی ہے۔جوکہ کسی اورموقع پر بیان کیاجاۓ گا۔
تعلیمی سفرکاآغاز:
آپ نے ابتداٸی تعلیم گاٶں کے اسکول میں ہندی5پانچ کلاس تک پڑھی۔پھر6/7کلاس تک مڈل اسکول ڈھٹہ میں پڑھ پاۓ تھے۔کہ باپ کی بجاۓ داداکے ارمان نے کروٹ بدلی۔گلشن قلب کی کیاریوں میں ہزاروں تمناٶں کے گل بوٹے کھلنے لگے۔جن کی آبیاری کے لۓ اسکولی تعلیم بندکرادی۔اورمدرسے کی ٹوٹی چٹاٸی پربٹھادیا۔دینی تعلیم کاآغاز سراجمنی کے مدرسہ سے ہوا۔ جس عمر میں آپ نے مدرسے کی تعلیم کاآغاز کیا ۔اس عمرمیں عموماً روزگار کی تلاش میں لوگ دہلی پنجاب میں جایاکرتے تھے۔مگر آپ نے داداجان کی خواہیش کی تکمیل کےلۓ مدرسے جاناشروع کیا۔سراج منی کے مدرسہ میں قاٸدہ بغدادی سے لیکرفارسی کی پہلی تک پڑھی۔پھرمالاپارہ عالیہ مدرسہ میں وستانیہ چہارم تک پڑھی۔یہاں سے اعلی تعلیم کے لۓ رخت سفرباندھا۔بہار میں ڈوبکی لگاٸی ۔سیدھااعظم گڑھ یوپی میں جاکر سرابھارے۔اور دارالعلوم آفتاب علم عظمت گڑھ میں جاکر پناہ گزین ہوۓ۔
اس مقام پر یہ بات رہ جاتی ہے کہ جب آپ بیرون وطن حصول علم کے لۓجاناچاہتے تھے۔تواس وقت سنگت نہ ملنے کی وجہ سے پاس کی بستی دھرم ڈانگھی کے ایک دیوبندی مولوی کے ہمراہ دیوبندی مدرسے میں جانے کی تیاری کرچکے تھے۔لیکن اللہ کاخاص کرم دادی محترمہ کے علالت کی صورت میں ظہورپذیر ہوا۔گھروالوں نے روک لیا۔چند ایام بعد اہل سنت کے عالم کی سنگت مل گٸی ۔اور اعظم گڑھ پہنچ گۓ۔ورنہ خود توگمراہ ہوتے اورآج رکتہار کوبھی دیوبندیت کے چپیٹ میں لیکرآجاتا۔
آفتاب علم عظمت گڑھ کی آب وہواراس نہیں آٸی ۔ایک سال گزارکربوریابستر سمیٹ کر پاس والی بستی جین پور کے مدرسہ انوارالعلوم میں آگے۔یہاں بھی ایک سال رہ کر دوسرے برس گورکھپور کے ایک مدرسہ میں چلے گۓ۔یوپی کی ہواراس نہیں آٸی ۔توپھر وطن میں مراجعت کی ۔اور علاقہ ہی میں مدرسہ اشرفیہ اظہارالعلوم حراحجراسوناپوربارسوٸی کٹیہار میں تعلیم حاصل کرنےلگے۔ایک سال تک رہے سالانہ نصاب ختم کیا۔اور الجامعة النظامیہ ملک پور{دلکولہ}کاشہرہ سنا۔وہاں کی دال روٹی چکھنے روانہ ہوگۓ۔یہاں پر بھی ایک برس ہی رہے پھرگوپال گنج مقری ٹولہ کےمدرسےمیں رکے۔ایک سال یہاں پربھی رہے۔پھرسرکارآسی کے دیارسکندرپورضلع بلیامیں تین سال رہے۔فیض حاصل کیا۔اور بریلی شریف مرکزی درسگاہ منظراسلام میں ایک سال رہے۔پھرحضورمفتی اعظم عالم اسلام علیہ الرحمہ کے قاٸم کردہ ادارہ مظہراسلام بی بی جی مسجد میں ایک سال گزارکر 28 ڈسمبر 1988میں فضیلت کی سندودستارلی۔
ایک قابل ذکر بات:
آپ نے دیکھاکہ مبلغ اسلام ناشرمسلک اعلی حضرت تقریباً ہرسال مدارس تبدیل فرماتے رہے۔جس سے کچھ شبہات کا پیداہوجانایقینی ہے۔لیکن جب اس بابت دریافت کیاگیا۔توفرمایاکہ اس قدر تبادلہ مدارس کی وجہ یہ ہے کہ ہرسال آبادپور میں انجمن کے زیرتحت بیٹھک ہوتی تھی۔اور اس میں حضرت مفتی ظہور حسن رضوی صاحب تمام علاقاٸی طلباکے امتحان لیتے تھے۔اور مدرسوں کی چینجنگ تبدیلی کاحکم وہی فرمایاکرتے تھے۔انہیں کے حکم کی تعمیل میں کثرت مدارس میں حصول علمی کی بساط بچھاکرزانوے تلمذ طۓ کرنی پڑی۔
چنانچہ مدرسے کی ڈگری کے ساتھ علاوہ ازیں الہ آباد بورڈ سے منشی ۔مولوی ۔عالم۔اوربہارایجوکیشنل بورڈپٹنہ سےوستانیہ فوقانیہ مولوی عالم۔کی ڈگریاں لیں۔اور ممتازنمبروں سے پاس ہوۓ۔
ناموراساتذہ کرام:
کثرت مدارس کے تبادلہ سے واضح ہے کہ اساتذہ کرام کی فہرست بھی طویل ہوگی۔مگر یہاں پر خاص خاص اساتذہ کےاسماۓ گرامی لکھے جاتے ہیں۔
حضرت علامہ شہاب الدین اشرفی لطیفی علیہ الرحمہ شہجنوی ۔مولانانذیراحمدصاحب پورنوی۔
مولاناقاری طیب عالم آشاپوربنگال۔
حضرت مولاناامام اختر صاحب ۔
حضرت علامہ مفتی غلام یٰسین رضوی صاحب۔
حضرت مولاناسجادعالم رشیدی ۔پیرطریقت رہبر راہ شریعت علامہ عبدالخالق صاحب رضوی۔
حضرت علامہ نعیم اللہ خان رضوی۔حضرت علامہ سیدعارف صاحب شیخ الحدیث دارالعلوم مظہراسلام بریلی شریف۔
حضرت علامہ مفتی محمداعظم نوری صاحب قبلہ۔
مولانامناظرحسین رضوی صاحب ۔
حضرت علامہ مولانابہا ٕ المصطفے صاحب ۔حضرت علامہ مولانامحمداعجازانجم لطیفی کٹیہاری۔
حضرت علامہ مولانامحمدانورعلی صاحب ۔وغیرھم
بیعت وارادت:
محی الدین ابوالبرکات معروف بہ مفتی اعظم عالم اسلام مصطفے رضانوری علیہ الرحمہ۔
دینی خدمات:
بریلی شریف میں فارغ ہونےکےبعد بھی مقیم تھے۔ایک دن بارگاہ رضویہ اور مرشد برحق کی پاٸنتی پرکھڑے ہوکرفاتحہ پڑھی۔اوربارگاہ رب العزت سے دعاگوہوۓ ۔کہ بارالٰہ مجھے دین کی خدمت کے لۓ ایسی جگہ بھیج جہاں پر میں اسلام و سنیت کی تبلیغ واشاعت کرسکوں۔دعاکااثر دوتین دن ہی میں ہوگیا۔پنجاب کے خوب صورت شہر روپڑمعروف بہ روپ نگر میں بریلی و اطراف ۔گاٶں دیہات کے لوگ بغرض تجارت مقیم تھے۔مساجدیں توتھیں مگر ویران غیرآباد غیرمسلموں کے قبضے میں ۔البتہ دویاتین مساجدکھلی تھی۔جن میں وہابیہ دیوبندیہ کاقبضہ تھا۔اور جن علاٸق میں یہ مساجدتھیں ۔اس سے کافی دور شہرکےآخری کنارے پر دریاۓ ستلج کےساحل پران لوگوں کارہن سہن تھا۔پھربریلی والے اہل سنت سے تھے۔ان کے پیچھےنماز کیسےپڑھ سکتے تھے۔اس لۓ ایک ایسے عالم دین کی ضرورت تھی۔جوان کو پنج وقتہ نمازکے ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم وتربیت پربھی توجہ دیں۔لہذاآپ کی دعابارگاہ رب العزت میں مقبول ہوٸی۔اور روپڑکے لۓ روانہ ہوگۓ۔
روپڑپرایک نظر:
روپ نگر ایک تاریخی شہر ہے۔اور دریاۓ ستلج کے کنارے پرآباد ہے۔دریاۓ ستلج ان پانچ دریاوٶں میں سے ایک ہے جن کی نسبت سے اس سرزمین کو۔۔پنجاب ۔۔کہاجاتاہےاس دریاکاپانی موسم گرمامیں بھی نہایت یخ بستہ ہوتاہے۔یہ دریاتبت سے نکل کر ہماچل سے گزرکرپنجاب وہریانہ اور راجستھان کوسیراب کرتاہے۔اس کا پانی کھانے پینے کےعلاوہ کھیتوں میں کاشت کاروں کے کام آتاہے ۔چنانچہ روپڑ شہر کوٸی خاص بڑانہیں ہے۔پنجاب کے مشرقی علاقے میں واقع ہے۔اور سمندرتل سے 262میل {860}کی بلندی پرواقع ہے۔
آزادی ہنداور ملک کے بٹوارے کے وقت پنجاب کے مسلمانوں پرجوآفت کی پہاڑ ٹوٹی تھی۔ان کے نشانات روپڑکےہر گلی کوچے میں سامان عبرت بناہواہے۔مسلمانوں کے گھروں کے دروازےمیں اب بڑے بڑے قفل پڑے ہوۓ ہیں۔اولیا ٕاللہ کی مزارات کے مجاور بھی غیرمسلم ہی بنے ہوۓ ہیں۔ مساجدیں ویران اور غیر مسلموں کے قبضے میں ہیں۔جن میں یاتوخودرہتے ہیں یاپھر بیل بھیس پال رہےہیں۔ان کی بے حرمتی کودیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہے۔بقول حضرت مولانامحمدمسیح الرحمن رضوی آزادی سے قبل شہربھرمیں کل 91مساجد تھیں۔یہ شہر کوٸ خاص بڑانہیں ہے۔2001 ٕ میں اس کی کل آبادی 48165 تھی۔
لیکن ابھی کل چارمساجدکی بازیابی ہوٸ ہیں۔اوروقف بورڈ کے ماتحت ہیں۔مگر دیوبندیوں کے قبضہ میں ہے۔جبکہ اور چار نٸ مساجد آپ کی محنت وکوشش سے بنی ۔جوکہ اہل سنت کے ہاتھ میں ہے۔
غرض زوال مسلم کی داستان ہرگلی ومحلے میں دیکھنےکومل جاتے ہیں۔مگر ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔سواۓ قومی زوال پر ماتم کرنے کے۔
قادری مسجدکاقیام:
آپ روپڑتوپہنچ گۓ مگر یہاں پر نہ مسجد تھی جس میں نمازپڑھاتے اورنہ مدرسہ جس کی مسند پربیٹھ کر بچوں کوتعلیم دین سے آراستہ وپیراستہ کرتے۔یوں ہی دو مہینے بیت گۓ۔لوگ دن بھر تجارت میں مصروف رہتے ۔رات تھکے ہارے گھرپرآتے۔انہیں لیکرایک رات کومیٹنگ کیا۔طۓ پایاپہلے مسجدبناٸی جاۓ۔سبھی غریب الوطن تھے۔مسجدکے لۓ جگہ کون دے۔اورکہاں سے لیں۔کہاں پرمسجد بناٸیں۔یہ بھی طۓ پاگیاکہ لب دریاۓ ستلج جس مقام پر جھوپڑی بناکر رہنے کی ان لوگوں کو حکومت نے اجازت دی ہے۔اسی مقام پر حاکم شہرسے اجازت لیکر مسجد بناٸی جاۓ۔
دوسرےدن چندباثرلوگوں کولیکر آپ حاکم شہر کی خدمت میں پہنچ گۓ۔ساتھ میں چند شریف غیرمسلم {سیکھ }بھی تھے۔مدعا بیان کیا ۔اجازت مل گٸ۔آناً فاناً مسجد کے لۓ جگہ کاانتخاب کیا۔پہلی جمعہ کی نماز تھی۔آپ نے اس دن خطابت کے جوہردیکھاۓ۔گلستان رضویہ کاتروتازہ گل تھا۔خوشبوروپ نگر اور اطراف میں پھیل گٸ۔علم میں تازگی تھی۔چندے کی اپیل ہوٸی۔روپیوں کی برسات ہوگٸ۔گاٶں دیہات کادورہ کیا۔پھردیکھتے ہی دیکھتے ایک عالی شان پکی مسجد لب دریاۓ ستلج حویلی کلاں میں تعمیر ہوگٸ۔اور اللہ اکبر کی لاہوتی صداسے دشت وجبل گونج اٹھی۔
دشت تودشت ہے دریابھی نہ چھوڑے ہم نے
بہرظلمات میں دوڑا دیۓ گھوڑے ہم نے
آزادی ملک کے بعد روپڑ کی سرزمین پر اہل سنت کی یہ پہلی مسجد تھی۔جس کی سنگ بنیاد بفیضان اعلی حضرت وحضور مفتی اعظم ہندعلیہم الرحمہ مبلغ اسلام ناشرمسلک اعلی حضرت حضرت مولانامحمد مسیح الرحمن رضوی کے ہاتھوں پڑی۔
لہذایہ سلسلہ تھما نہیں ۔بلکہ جیسے جیسے آپ کی شہرت اور حکومت سے رسوخ بڑھتی گئ۔آپ کی محنت وکوشش اورلگن سےشہرمیں اور بھی چارمساجدقائم ہوگئیں۔
مدرسہ قادریہ کاقیام:
چنانچہ جب دریاۓ ستلج کے کنارے پر آپ نے مسجدتعمیر کرلی۔تواسی مسجد میں صباحیہ تعلیم کے لۓ بھی انتظام کرلیا۔اور مدرسے کانام آپ نے مدرسہ قادریہ رکھا۔یہ دونوں کارنامے آپ کے ان شا ٕاللہ تعالیٰ رہتی دنیا تک یادگار اور قاٸم رہیں گے۔
اثررسوخ :
آپ روپڑ کی سرزمین میں اہل سنت کے پہلے عالم دین تھے۔جن کے ہاتھوں سے اللہ تعالی نے دین وسنیت کی خدمت کاکام لیا۔اورآج اس سرزمین میں ایک تہاٸی اہل سنت آبادہے۔جوکہ بفضل خداوندتعالی آپ ہی کی محنت کاثمرہ ہے۔
آپ کاتعلق صرف عوام سے نہ تھا۔بلکہ آپ کی رسوخ روپڑکے ڈی آٸی جی ۔ایس ایس پی ۔وکلاوجج صاحبان سے بھی تھی۔
ایس ایس پی جناب محمدمصطفے سہارنپوری صاحب جوبعد میں ڈی آٸی جی بنے۔ مگّر خان اورصغیراحمدصاحبان ملیرکوٹلہ کے باشندہ تھے۔اور روپڑمیں نایب شیشن جج کے پوسٹ پر متمکن تھے۔یہ حضرات آپ کی بہت ہی تعظیم اور احترام کرتے تھے۔
ایک مرتبہ آپ نے ایک رکشہ والے کی ڈی آٸ جی صاحب سے پولیس کی ملازمت کے لۓ سفارش کردی ۔آپ کے احترام میں بلاچوں وچراان کی ملازمت پکی کردی۔کچھ دنوں بعد وہ رکشہ والا آپ کی شان میں گستاخی کی ۔آپ نے کچھ بولانہیں ۔مگرکسی نے جب ڈی آٸ جی صاحب سے اس گستاخی کی اطلاع دے دی۔جس کے پاداش میں اس گستاخ کوبھاری قیمت چکانی پڑی۔بطورسزا تین مہینے کے لۓ سسپنڈ کردیا۔اوربارے دیگر رکشہ چلانے کاحکم دیا۔آپ سے معافی منگواٸی۔تب جاکرملازمت پربحال کیا۔
مامابھانجے کے مزارکی مجاوری:
روپڑ میں آپ کواللہ ﷻ نے وہ مقبولیت عطافرماٸی تھی۔کہ مسلم ہویاغیرمسلم ہرکوٸی لاٸق صد احترام سمجھتے ۔ہندومسلم سکھ سبھی دھرم کے عوام اور گرو آپ کوسلام ٹھوکتے تھے۔
روپ نگر اللہ والوں کاشہر ہے۔جس کے آثارومقابر ہرگلی محلے میں چھوٹی بڑی درگاہوں کی صورت میں موجود ہیں۔
شہنشاہ بابا۔بابانوگزہ پیر۔بندہ شیرعلی ۔شہزادے پیر۔زندہ پیر وغیرہ ان سب کے مزارات کی مجاوری غیرمسلم سکھ لوگ کرتے ہیں ۔
البتہ شہرکے اندرمامابھانجے کی درگاہ مشہور ہے۔ان کی خدمت کے لۓوقف بورڈ کے اراکین نے آپ کی مقبولیت کودیکھ کرآپ کو مامابھانجے کے مزار کا خادم بنادیا۔چند برس خدمت انجام دیکر ایک غریب مسلمان کے حوالے کرکے آ پ وطن مالوف میں آگۓ۔
اشاعت اہل سنت:
ہندوستان میں چونکہ انگریزوں نےمسلمانوں سےحکومت چھینی تھی۔اس لۓ اس بات کومعلوم کرنےمیں دیرنہیں لگی کہ قوم مسلم پرتادیر حکومت کرناسہل نہیں ہے۔اس پر بدیں صورت حکومت کیاجاسکتاہےکہ انہیں آپس میں لڑادیاجاۓ۔یعنی لڑاٶ اور حکومت کرو۔کی پالیسی کواپنایا۔اورنجدعرب کی ملت شکن اور ایمان کش تحریک وہابیت کو ہندوستان میں لایا۔اور ان کی باگڈور چند باثر مسلم خاندان کے چند علمی افراد کےہاتھوں میں دے دیا۔
ہندوستان میں اس مشن کاسب سے پہلاداعی سید احمد راۓ بریلوی اور ان کے استاد مولوی اسماعیل دہلوی اور مولوی عبدالحٸ بڈھانوی تھے۔انہوں نےدین اسلام میں شگاف ڈالنے کےاس مشن پر دل وجان سے عمل کرنے میں کوٸی دقیقہ فروگزاشت کاباقی نہ رکھا۔اور انگریزوں نے اس کے اس مشن کی خوب آبیاری کی۔اوراسے اقطاع ہند کے گوشے گوشے میں پھیلادیا۔
پنجاب بھی انہیں ریاست میں سے ہے۔جہاں کے مسلمان پہلے اہل سنت ہی تھے۔اور انہیں عقاٸدواعمال کے حامل تھے ۔جوکہ آج بریلوی مسلک کاطرہ امتیاز ہے۔غیرمقلد وہابی مولوی ثنا ٕ اللہ امرتسری لکھتے ہیں۔
امرتسر میں مسلم آبادی غیرمسلم آبادی {ہندوسکھ وغیرہ}کے مساوی ہے۔ اسی 80سال پہلے قریباًسب مسلمان اسی خیال کے تھےجن کوآج کل بریلوی حنفی خیال کہاجاتاہے ۔شمع توحید ص 53
یہ صرف امرتسر کی بات نہیں ہے۔بلکہ پورےپنجاب میں ہی نہیں ۔سارےہندوستان میں انگریزوں کی آمدسے قبل ایک بھی وہابی تھا۔نہ نام نہاداہل حدیث غیرمقلد۔لہذا روپڑ میں مشہورغیرمقلد عالم عبداللہ روپڑی نے مسلمانان روپڑ کے عقاٸد وایمان کو نہ صرف متزلزل کیا۔بلکہ بہت سےلوگوں کو غیرمقلد بھی بنادیا۔اس نے ایک مدرسہ بھی قاٸم کیا تھا۔جوقلعہ کے قرب میں تھا۔ آزادی کے بعد اس شہر میں غیرمقلدین اوردیوبندیہ دونوں یک جان دوقالب بن کر کام کررہے تھے۔اہل سنت کے لوگ اگر چہ تھے۔مگر ان کی ایک بھی مسجد نہ تھی۔جس میں وہ نماز پڑھتے۔ایک بھی مدرسہ نہ تھاجس میں اہل سنت کے نونہالوں کوتعلیم دی جاتی تھی۔اس لۓ روزبروز وہابیوں سے ملاقات پر متاثرہوتےجارہےتھے۔لیکن آپ کی آمد سے یہ سلسلہ بند ہوگیا۔جیسے جیسے آپ کادورا گاٶں دیہات میں ہوتارہا۔اہل سنت کے عوام مذہبی ومسلکی طور پرمضبوط ہوتے گۓ۔اورآ پ کی شخصیت بھی روپ نگر واطراف میں مرکزیت حاصل کرلی۔لوگ اپنے دینی ودنیوی معاملات کی تصفیہ کے لۓ آپ ہی کے پاس آنے لگے۔
اسلام کی تبلغ:
آپ نے روپڑ میں خدمت دین وسنت کی نہ صرف اشاعت کی بلکہ اسلام کی تبلیغ بھی کیں۔اسلام وسنیت کے تٸیں آپ کی محنت وکوشش أور کردار واخلاق کی بلندی سے وہاں کے عوام توعوام مسلم اور غیرمسلم ۔بلکہ پنڈت بھی بہت متاثر تھے۔بلکہ ایک غیرمسلم نے آپ کے ہاتھوں پر اسلام بھی قبول کیاہے۔اور آج بھی انہیں مرشد کے درجہ تک احترام کرتے ہیں۔اس نومسلم سے حقیرکارابطہ ہے۔اور ایک مرتبہ پنجاب جاناہواتوان کے گھر میں بھی چندشب بسرکرنے کااتفاق ہواہے۔آپ کی عزت وتوقیر نہ صرف پورے شہر روپ نگر کے لوگ کرتے ہیں ۔بلکہ اطراف وجوانب کے گاٶں دیہات تک کے لوگ آپ کو مرشد تصور کرتے ہیں۔
تدریسی خدمات:
آپ بریلی شریف میں فارغ ہونے کے بعد روپڑ میں چلے گۓ۔وہیں پر آپ نے قادری مسجد اور مدرسہ قادریہ کی بناڈالی۔اوراسی میں 7 برس تک تعلیم بھی دیں۔ہرسال ایک مہینہ کے لۓ وطن میں تشریف لاتے۔1991 ٕ میں جب ایک مہینہ کی تعطیل پر وطن میں تشریف لاۓ تواسی دوران حضرت مولانا شمیم القادری سے مل کر ہنگامی طور پربیلوامیں ایک مدرسے کی بنیاد ڈال دی۔مگر بحیثیت مدرس رکے نہیں۔1995 ٕ میں روپڑ چھوڑکر مستقل طور پرجب وطن میں رہنے کی ٹھان لی۔اورمسجدومدرسہ اہالیان وکارکنان کے سپرد کرکےگھرآگۓ۔تو دارالعلوم غوثیہ سفیلیہ مظہراسلام بیلوا میں رہنے لگے ۔اس ادارے میں آپ نےپانچ برس دۓ۔اہالیان روپڑ کی نگاہوں میں آپ کے بعد کوٸی امام جچانہیں۔توآپ کولینے کے لۓ حضرت کے وطن میں آگۓ۔اور باسرار اہالیان روپڑ آپ کواپنے ہمراہ ساتھ لے گۓ۔2000 ٕتک بارے دیگر آپ نے مسجدقادریہ اور مدرسہ کوسنبھالے رہے۔مگرپھرآپ گاٶں والوں کے اسرار پر اپنےہی گاٶں محلہ رکتہار {موضع بیلوا}کے مدرسہ شرافت العلوم میں 3تین سال دریاۓ علم کوبہایا۔گاٶں والوں کی وفاناکیشی کے سبب سے کبیدہ خاطرہوکر چند برس تک خدمت معلمی سے برطرف رہے۔پھر بارے دیگر حضرت علامہ مولانامحمد علی اکبررضوی صدردارالعلوم کی ایما ٕ وضد پر سلسلہ معلمی کی کڑی کو ملایا۔اوردارالعلوم مظہراسلام بیلوا میں تدریسی خدمت پرمامور ہوگۓ۔تادم تحریر یہی پر تشنگان علوم نبوی ﷺ کی علمی پیاس بجھارہے ہیں۔اورساٸڈ سے ٹیلرنگ کاکام بھی کررہے ہیں۔
محمدساجدرضاقادری رضوی
بانی: مدرسہ فیضان اعلی حضرت شعیب العلوم جگناتھ پور{بیلوا}آبادپور بارسوٸی کٹیہار بہار
موبائل نمبر 7970960753
Comments
Post a Comment