تاثرات از کتاب تذکرۃ استاذلاساتذہ
تاثرات
ــــــــــــــ
از: عالم اجل فاضل بے
بدل حضرت علامہ مولانامحمد رئیس الدین نوری خادم جامعہ کلیمیہ مسرور العلوم
مظہراسلام ساکن گوڑہنڈ پوسٹ ملیکان تھانہ چانچل ضلع مالدہ ویسٹ بنگال
بسم اللہ
الرحمن الرحیم
نحمدہ
ونصلی علی رسولہ الکریم
امام غزالی علیہ
الرحمہ احیاء العلوم میں مولاعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاقول نقل کرتےہوئےعالم دین
کی فضیلت کوآشکارافرماتے ہیں:۔عالم روزہ دارشب بیدار مجاہدسے افضل ہے۔اورحجۃ
الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نبی کریم ﷺ کی حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے
ہیں،صبح اس حال میں اٹھ کہ خود عالم ہویامتعلم ہویاعالم کی صحبت میں بیٹھنے والا
ہویاعالم سے محبت کرنے والا ہوپانچواں جوبناوہ ہلاک ہوگیا۔
(بحوالہ فضائل علم
وعلماء ص40 مصنفہ علامہ مفتی نقی علی خاں والدماجدسرکاراعلی حضرت علیہ الرحمہ)
ان دونوں اقوال
سےعالم دین کی کچھ فضیلت کااندازہ ہوتاہے،علم اور علماء کی فضیلت کودیکھ کردل
توکرتاہے کہ سات نسلوں تک کوعالم دین بناکرچودہ طبق روشن کرلوں،لیکن فی
زمانناعلماء دین کی معاشی حالت اوران کومعاشرہ میں جس ہینچ نظری سےدیکھاجاتاہے،اس
سے لوگوں کے انتہادرجہ کی جہالت ونادانستگی واضح ہے،لیکن علماء کی قومی وملی دینی
خدمات کواگرسطحی نظرسےبھی ایک نظردیکھ لیں،اورخیال کریں کہ اذہان کوشعوربخشنےمیں
علماء کاکیارول رہتاہے،اوراحسان شناسی کاتھوڑاسابھی جذبہ بیدارہوتوہینچ نظری
کی،،نظربد،،دورہونے میں دیرنہیں لگےگی۔
کہاجاتاہے کہ سب سے
مشکل کام درس وتدریس کاہے،پھراس سے مشکل کام تالیف
وتصنیف کاہے،پھرتصنیف
میں کسی کی سوانح عمری لکھنے کاکام مشکل تر ہے،یہ کام کتنی مشقت طلب اورلوہے کے
چنے چبانے کے مترادف ہے۔وہی جانتےہیں،جواس خارزاروادی کےمسافرہیں۔لیکن یہ مشکل
ترین کام جناب حافظ وقاری ساجدصاحب
پچھلےکئی سالوں سے کچھ علماء کرام کی سوانح عمریاں لکھ کر بخوبی انجام دے
رہے ہیں۔
جناب حافظ صاحب کایہ
کام بہت اہم ہے،حالانکہ علاقہ میں بڑے قابل علماء کی ایک جماعت موجود ہے،مگر کسی
نے اس طرف توجہ نہیں دی،اور نہ ہی چندکلمات لکھنے کےبھی روادارہوئے،،تذکرہ
استاذالاساتذہ ،،نامی کتابچہ جس عالم دین کے ذکرخیرسے معمورہے،حقیرانہیں کی بستی
کاایک ادنی باشندہ ہے،جب سے ہوش سنبھالا،لوگوں کوان کی تعریف وتوصیف ہی نہیں بلکہ
ہرافرادکوعزت وتوقیرسے نام لیتاہواپایا،عقیدت ومحبت کےگلشن دلوں میں
آباددیکھا،اورجب گاؤں سےباہرکی دنیادیکھی تویہ بھی جاناکہ آپ کو علاقہ میں بھی ایک
معتبر عالم دین کی حیثیت سے ماناجاتارہاہے،آپ ان عالموں میں شمار ہوتے ہیں،جو گنے
چنے تھے،گاؤں اوراطراف میں بڑے مولانایابڑے مولوی صاحب کےنام سے جانے پہچانے
گئے،استاذلاساتذہ ایک بہت بڑے جیدعالم دین اور ذی وقار شخصیت کے مالک تھے،
ہرپہلوسے چاہے وہ قرآن کریم کی تفسیرہویا احادیث رسول کی تشریح کرنے میں ،یاعلم
وعمل کے اعتبار سے ہوہرمیدان میں مرد مجاہد رہے،میں خاص ان کے گاؤں کاہوں ،اس
لئےبچپن ہی سے دیکھتارہا،حضرت کوجب بھی کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کااتفاق
ہوتا،چائے کی دکان میں ہویااور کسی کےمکان میں یامسجدو مدرسہ میں یااثناءراہ میں
قرآن پاک کی کسی آیت کی تشریح کرتے یاکسی حدیث رسول کے ذریعہ یاکسی بزرگ کاکوئی
واقعہ بیان کرکےلوگوں کوسمجھاتےہوئےپایا،جس سےلوگوں کی اصلاح کے تئیں دردمندانہ دل
اور فکری بصیرت کاپتہ چلتاہے،اوریہ بھی معلوم ہوتاہےکہ آپ خدمت دین متین کے ادنی
مواقع کوترک نہیں کرتے، یعنی کسی نہ کسی
حیلہ سے دین کی خدمت میں لگے رہتے،اورلوگوں کوسدھارنے کے لئے ہمہ وقت جدوجہد کرتے
رہتے،حالانکہ اِس دور کاحال یہ ہے کہ عوام توعوام کچھ خواص کوبھی دیکھئے،کسی کی
غیبت یاچغلی کرتے نہیں تھکتے،بلکہ خلاف شرع
کام میں بھی ملوث رہتے ہیں،لیکن
استاذ الساتذہ علیہ الرحمہ ان باتوں سے الگ رہتےتھے،زندگی بہت سادگی سے گزارتے،وہی
سفید تہبند سفیدکرتادوپہلووالی سفید ٹوپی جن کودیکھتے ہی اللہ والوں اور بزرگوں کی
یاد تازہ ہوجاتی ہے،انہوں نے لگ بھگ ہمارے علاقہ میں جتنے بھی بڑے ادارے ہیں
ہرادارہ کے طالبان علوم نبی ﷺکوعلم دین کی روشنی سے نہال کیا۔
استاذالاساتذہ علیہ
الرحمہ ایک سچے پکے عاشق رسول تھے،عشق رسول کی جھلک ان کی تقریر میں اورنعت رسول
پڑھنے میں دیکھائی دیتاتھا،اکثر ایساہوتاکہ تقریرکرتے کرتےاور نعت پڑھتے پڑھتےآپ
پر رقت طاری ہوجاتی،اور خود روپڑتےاور دوسروں کوبھی رولادیتے ،جوکہتے پہلے خود ان
پر عمل کرتے،، دیگرے رانصیحت خودرافضیحت ،،والی بات ان کے اندر نہیں تھی۔
غرض میری بساط کیا کہ
استاذالاساتذہ علیہ الرحمہ کی شخصیت
کواجاگر کروں ،مشتے نمونہ از خروارے،مختصرکتاب ،،تذکرہ استاذالاساتذہ،،میں بیان
ہواہے،انہیں دیکھ کر آپ کی ہمالیائی شخصیت کااندازہ ہوتاہے،اللہ تعالیٰ موصوف کی
اس کاوش کوقبول عام عنایت فرمائے،اور اللہ تعالٰی حضرت استاذالاساتذہ علیہ الرحمہ
کی قبرانورکونورسےبھردیں،اور ہمارے علاقہ میں ان کی وفات سے جوخلاپیدا ہوا ہے،ان
کی بھرپائی فرمائیں۔آمین ثم آمین
محمدرئیس الدین نوری
مقام وپوسٹ
مہیندرپوراسلام پورتھانہ ہرشچندرپورضلع مالدہ مغربی بنگال

Comments
Post a Comment